Monday, December 1, 2014

خصائلِ و عادات لباس خوراک

خصائلِ و عادات 

اللہ والوں کی عادتیں بڑی بے نظیر ہوتی ہیں ان کا ظاہر اور باطن چونکہ یکساں ہوتا ہے اس لیے ان کے خصائل میں سادگی ہوتی ہے وہ فطرت کے محرم راز ہوتے ہیں اس لیے ان کی عادات اہل ِدنیا کے لیے مشعل ِراہ ہیں ۔ان کی عادتوں سے محبت اور انسانی خدمت کے چشمے پھُوٹتے ہیں ۔ان کی باتیں دکھی انسانیت کا مداواہیں ۔ان کی ادائیں اللہ کی محبت ،اور عشقِ مصطفٰے میں ڈوبی ہوتی ہیں ۔اس لیے لوگوں کے دلوں کو روشن کرتی ہیں ۔حضرت سید علی ہجویریؒ کی عادات ِمبارکہ کی مکمل تفصیل تو نہیں ملتی البتہ جو ملتا ہے وہ پیش ِخدمت ہے :

لباس 

جسم ڈھانپنے کے لیے حضرت سید علی ہجویری ؒ کو کسی مخصوص صوفیاءنہ لباس کا شوق نہ تھا ۔آپ کے زمانے میں صوفیاءمخصوص قسم کا لباس پہنتے تھے جسے وہ صوف کا لباس قرار دیتے تھے تاکہ اس لباس کے پہننے سے دوسروں کو معلو م ہو کہ وہ صوفی ہیں ۔ صوفیاءکے ایسے لباس کو خرقہ یا گودڑی کہا جاتا تھا۔خرقہ یا گودڑی کو پیوند لگے ہوتے تھے ۔مگر آپ کے دور میں بعض ظاہر دار صوفیاءنے پیوند لگے کپڑوں اور خرقہ کو لوگوں میں جاہ و جمال کا ذریعہ بنا لیا تھا ۔ ایسا کر نا صو فیاءکے لئے اچھا نہ تھا اس لیے آ پ صو فیاءکا مخصو ص لباس پہننے کو بہتر تصور نہیں کرتے ۔ کیونکہ کشف ا لمحجوب میں لباسِ صوفیاءکے بارے میں آپ نے بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے کہ صوفی کا لباس کیسا ہو اور ا پنے لباس کا ذکرفرمایا ہے۔
آپ فرماتے ہیں کہ اب صوفیاءنے خرقہ یعنی پشم والا لباس تر ک کر دیا ہے اس کی دجہ یہ ہے کہ یہ لباس راہِ طریقت کے لیے شرط نہیں ہے ۔اس دور میں پشم کا لباس کم پہننے کی دو وجوہا ت ہیں ۔ایک یہ کہ پشم مشکوک ہو گئی ہے اور وہ اس طرح کہ جانور چور چکاری اور لوٹ مار میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آتے جاتے رہتے ہیں دوسرے یہ کہ بدعتوں کی ایک جماعت نے بھی اونی لباس پہننا شروع کردیا ہے اور اہل بدعت کی مخالفت ضروری ہے چاہے اس سے خلاف سنت ہی کیوں نہ ہو رہا ہو۔
 صو فیا ءکپڑوں میں پیوندلگانے میں تکلف برتنے لگے ہیں اس لیے لوگوں میں ان کی جاہ و منزلت بڑھ گئی ہے اور اب ہر شخص ان کی نقالی کرنے لگا ہے بظاہر خرقہ پہن لیتے ہیں مگر ان سے اعمال انتہائی نہ مناسب سر زرد ہوتے ہیں انھیں ان نام نہا د صوفیوں کی حرکت سے کہ وہ اپنے لباس اس انداز میں سینے لگے کہ کوئی اس طرح نہ سی سکے ۔اور انھوں نے باہم ایک دوسرے کے لیے یہ اپنی علا مت اور نشانی مقرر کر لی ہے اور اس حد تک اپنا شعار بنایا کہ ایک درویش کسی شیخ کی خدمت میں گیا اس نے جو خرقہ پہن رکھا تھا اس پر چوڑے بخیے لگے ہوئے تھے چنانچہ شیخ نے اسے اپنی محفل سے نکال دیا ۔اس سے مراد یہ ہے کہ صفا کی حقیقت طبیعت کی رقت اور مزاج کی لطافت ہے۔نیک دل اور صاف طبع میں کجی بھی نہیں ہوتی ۔جس طرح نہ موزوں شعر طبیعت پسند نہیں کرتی یا کوئی بھی نہ مناسب کام طبیعت کو اچھا نہیں لگتا ۔
بعض لوگوں نے لبا س کے معاملے میں کبھی تکلف سے کام نہیں لیا۔اللہ تعالیٰ نے اگر انھیں گدڑی عطا کی تو انھوں نے پہن لی اور اگروہ انھیں قبا سے نواز تا تو اسے زیبِ تن کر لیتے ہیں ۔اور اگر انھیں برہنہ رکھتا ہے تو وہ اس طرح گزارہ کرتے ہیں اور میں علی بن عثمان جلابی ؒ بھی اس طریقے کو پسند کرتا ہوں اور میں نے اپنے سفر میں اسی پر عمل کیاہے ۔
پھر ابو سعید ہجویریؒ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں ۔اس وقت غزنی میں بھی پیر صاحب کرامت موجود ہے ۔خدا اس کو تا دیر سلامت رکھے اس کا نا م مو ¿یدہے ۔ابو حامد دوستا ن کی طرح اس کو بھی اپنے لباس پر قبضہ نہیں ہے اور نہ اختیار ہے ۔میں بھی اسی طریق کو پسند کرتا ہوں ۔یعنی اگر گدڑی مل جاتی ہے وہی پہن لےتا ہوں۔قبامل جائے تو اس سے بھی انکا ر نہیں ۔پشم کا پاجا مہ اور سفید پیراہن بھی پہن لیتا ہوں گو سفید میںدھونے کی تکلیف ضرورہے ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کسی خا ص لباس کے پابند نہیں ۔ جو مل جاتا ہے اور جو میسر آجاتا ہے وہ پہن لیا کرتے تھے ۔مگر ایسے لباس سے ہمیشہ احتراز کرتے تھے جس سے زینت پائی جاتی ہو ۔اور جو محض نمائش کے لیے ہو ۔
چنانچہ کشف المحجوب میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ میں جن دنوں خراسان میں تھا اور مقصد خاص کے لیے پھر رہا تھا ۔میں نے بطور سنت بہت سخت کپڑے کی گودڑی پہنی ہوئی تھی ۔ایک عصا میرے ہاتھ میں تھا اور چمڑے کا لوٹا میری ظاہر ی کائنات تھی 

خوراک

لباس کی طرح خوراک کے بارے میں بھی آپ کا طرزِ عمل یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مل جاتا اسے استعما ل میں لے آتے کیونکہ انسانی زندگی میں خوراک کھا ئے بغیر کوئی اور چارہ کا ر نہیں ۔جسم خوراک ہی سے قائم رہتا ہے اس لیے ضرورت کے مطابق خوراک استعمال کرنا عین سنت بھی ہے۔ آپ خورا ک میں زیادتی کے قائل نہ تھے ۔کیونکہ آپ کا ارشا د ہے کہ مرید کے لیے بسیار خوری سب سے زیادہ نقصان دہ ہے اس لیے آپ نے بہت سیر ہوکر کھانے سے عمر بھر گریز کیا ۔
قیام لاہور کے دوران آخری عمر میں آپ کی قیام گاہ پر جب لوگوں کا آنا جانا کثرت سے ہوگیا تھا تو لنگر کا اہتمام بھی عام ہو گیا ۔ہر ایک کے لیے کھانا ایک جیسا ہوتا ۔جو پکتا اسی سے آپ بھی تناول فرما لیتے اور اپنے پاس آنے والوں کی خد مت بھی کرتے ۔اس طرح آپ کی خوراک کا سلسہ اللہ تعا لیٰ کی عطائی تھا ۔جو آگیا اسی پر قناعت کر لی اور زندگی کے شب و روز پورے ہوگئے خوراک میں دودھ ،سبزیاں ،گندم چاول ،گوشت اور دیگر ضروری اشیا ءقابل ذکر ہیں ۔
آپ کھاتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سنت طریقے کا بہت خیا ل رکھتے اس لیے آپ نے کشف المحجوب میں فرمایا ہے کہ کھا نا دائیں ہا تھ سے کھانا چاہیئے نظر اپنے لقمے پر رہے ۔کھانے کے دوران مکمل پیاس کے بغیر پانی نہ پیئے اور پیئے تو اتنا تھوڑاکہ جگر تر ہو جائے ۔لقمہ بڑا نہ لے ۔خوب چبا کر کھا ئے جلدی نہ کرے اس سے بد ہضمی کا اندیشہ ہے اور سنت کے بھی خلاف ہے ،کھانے سے فارغ ہوتو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ہاتھ دھوئے ۔اگر جماعت میں سے دو تین یا زیادہ آدمی خفیہ کسی دعوت میں چلے جائےں اور کچھ کھائے پیئں تو بعض مشائخ کے نزدیک یہ حرام ہے اورصحبت میں خیا نت کے مترادف ہے ۔

استخارہ کی تر غیب نیت درست رکھنے کی تلقین نفسانی خواہشوں سے منہ موڑنا علم وفضل

استخارہ کی تر غیب

حضرت سید علی ہجویری ؒ کا طریقہ کا رتھا کہ جب کوئی بڑا اہم کا م کرنے کا ارادہ کرتے تو پہلے سنت کی اتباع میں استخارہ کرتے تا کہ اللہ تعالیٰ کی مددشامل حال ہو جائے لہٰذا آپ فرماتے ہیں جب میں نے کتا ب لکھنے کا ارادہ کیا تو میں نے سب سے پہلے استخارہ کیا اور استخارہ میں جب اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مدد ملنے کا اشارہ ہو گیا تو میں نے کتا ب لکھنے کا پختہ ارادہ کر لیا ۔
آپ فرماتے ہیں کہ استخار ہ سے مراداللہ تعالیٰ کے ان آداب کا لحاظ رکھنا ہے کہ جن کا اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کا اتباع کرنے والوں کو حکم دیا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا فَاِذَاقَرَاتَ ال ±قُر ± انَ فَاس ±تَعِذ ± بِاللّٰہِ مِنَ الشَّی ±طٰنِ الرَّجِی ±مِ ۱ (کہ جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو )اور استعاذت (ہر معاملہ میں اللہ کی پناہ مانگنا)استخارت (اللہ سے بھلائی طلب کرنا )اور استعانت(ہر معاملہ میں اللہ کی مدد چاہنا ) ان سب سے مراد یہ ہی ہے کہ تمام امور میں اللہ تعالے ٰ سے ہی مدد طلب کی جائے ۔اپنے تمام کاموں کو اللہ ہی کے سپرد کیا جائے اور یوں طرح طرح کی مصیبتوں سے نجات حا صل کی جائے ۔
صحابہ کرام ؓ سے روایات ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح ہمیں قرآن کی تعلیم ارشاد فرمایا کرتے تھے اسی طرح استخارے کی بھی تعلیم دیا کرتے تھے۔
پس جب انسان اس حقیت سے روشناس ہوجائے کہ کسی کام میں اس کی کامیابی اس کے ذاتی کسب اور تدبیر پر موقوف نہیںکیونکہ انسان کی بہتر ی کا علم اللہ تعالیٰ کوہی ہے اور ہر قسم کی بھلائی یا برائی تقدیر الٰہی پر منحصر ہے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی ہونے اور اس سے مدد مانگنے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہیں رہتا اس طرح وہ نفس امارہ کی شرارتوں اور سر کشی سے ہر حالت میں محفوظ ہوجاتا ہے اور اس کی اصلا ح اور بہتری منزل کو حاصل کرلیتا ہے ۔لہٰذا ضروری ہے کہ بندہ اپنے تما م کاموں میں اللہ سے استخارہ کر لیا کرے تا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اسے غلطیوں اور آفتوں سے محفوظ رکھے اور توفیق تو اللہ کی طرف سے ہی ہے ۔

نیت درست رکھنے کی تلقین 

آپ عمل شروع کرنے سے پہلے نیت درست رکھنے کے قائل تھے لہٰذا اپنے ساتھی حضرت ابوسعید ہجویریؒ کو مخاطب کرکے ایک جگہ فرما تے ہیں کہ ہر کام کرنے سے پہلے اس کی نیت ضرور کرلینی چاہیئے ۔اگر کام میں کچھ خلل واقع ہو یا کام بخیرو خوبی انجام تک نہ پہنچ سکے تو اس میں انسان معذور ہے لیکن نیت اس کو کرنے یا انجام تک پہنچانے کی ہونی چاہیئے ۔
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مومن کی نیت اس کے اس عمل سے بہتر ہے جو بغیر نیت کیا جائے اور اعما ل میں نیت کا بڑا دخل ہے ۔اور اس پر سچی دلیل موجود ہے کہ بندہ ایک ہی نیت سے ایک حکم میں دوسر ے حکم میں ہوجاتا ہے حالانکہ اس کے ظاہر پر اس کا کوئی اثر نمودار نہیں ہوتا ۔
مثلاً اگر کوئی شخص روز کی نیت کے بغیر کچھ دن بھوکا رہے تو اسے اس کا کوئی اجر نہیں ملے گا لیکن اگر وہ روزہ کی نیت کرکے بھوکا رہے تو مقربانِ الہی میں شمار ہوجائے گا باوجود یہ کہ ظاہر ی طور پر کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا البتہ وہ وہاں سکونت کی نیت کرلے تو مقیم سمجھا جائے گا ۔اسی قسم کے اور بھی بہت سے امور ہیں کہ نیت کے بغیر ان کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ۔لہذ ا ہر عمل کے شروع میں نیک عمل کی نیت ہونی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کوہی صحیح علم ہے ۔

نفسانی خواہشوں سے منہ موڑنا 

حضرت سید علی ہجویریؒ فرماتے ہیںکہ میں نے دل میں پیدا ہونے والی ہر خواہش سے منہ موڑ لیا ہے ۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہے کہ جس کام میں نفسانی اغراض شامل ہوجائیں اس سے بر کت اٹھ جاتی ہے اور دل راہ ِ راست سے پھر جا تا ہے ۔اس کی دو صورتیں ہیں ۔یایہ کہ اغراض پوری ہوجاتی ہیں یا نہیں ہوتیں ۔اگر یہ اغراض پوری ہو جائیں تو انسان کے لیے ہلا کت کا موجب ہے ۔کیونکہ نفس کی مراد پوری ہونا دوزخ کی کنجی ہے اوراگر یہ مراد پوری نہ ہوںتوبھی یہ شخص بار گراں اور اندرونی دباﺅ کا شکار رہے گا ۔الغرض جنت کے دروازے کی کنجی یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو اس کی خواہشات سے روکے ۔
ارشاد ِ خدا وندی ہے ”اور جس نے نفس کو خواہش سے روکا تو بیشک جنت ہی اس کا ٹھکا نہ ہے ۔“
نفسانی اغراض یہ ہیں کہ جو کام وہ کر رہا ہے اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی خوشنودی نہ ہو ۔اور نہ ہی اس سے مقصد اپنے نفس کو عذاب سے بچانا ہو۔اسی طرح نفسانی خواہشات کی کار فرمائی یہ ہیں کہ نفس کی رعونت کی کوئی حد نہ رہے اور نہ اسے کبھی اپنی کار ستانیوں سے اکتا ہٹ محسوس ہو۔

علم وفضل 

حضرت سید علی ہجویر یؒ وہ مرد کامل تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے علم و فضل سے بے پناہ نوازا تھا ۔ آپ علم کا ایک بحر بے کراں تھے ۔آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ علوم ظاہر ی و باطنی کی تحصیل و تکمیل میں صرف کیا تھا آخر ایک دن وہ بھی آ گیا کہ جب آپ ہر طرح سے علم و فضل پر کامل ہوگئے تو آپ کے علم کا سکہ اہل دنیا نے مانا آپکی کتا بوں سے آپ کے وسعت علم کا اندازہ ہوتا ہے ۔ پھر آپ کے علم و فضل کی بلند پر وازی آپ کی تصنیف کردہ کتا ب کشف المحجوب سے عیا ں ہے ۔آپ کی یہ کتا ب علم و عرفان کا انمول خزانہ ہے ۔
”آفتاب ِ ہجویر “میں لکھا ہے کہ آپ کی شہر ئہ آفاق کتا ب”کشف المحجوب “معلومات کا گنجینہ ہے جس میں علم و عرفان کے موتی بکھرے پڑے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ علم تاریخ پر بھی بڑا عبور رکھتے تھے ۔اس کتاب میں آ پ نے عہد رسالت ،خلفائے راشدین ۔فرماں روایانِ اسلام اور حکما ءعرب و عجم کے جو واقعات اور اقوال درج کیے ہیں ان کی صحت شک وشبہ سے بالا ہے۔ ان واقعات اقوال سے آپ نے جس رنگ میں استنباط کیے ہیں اس سے آپ کی قوتِ استد لال کا اندازہ ہوتا ہے ۔علم تصوف کے بارے میں جو نکات آپ نے بیان کیے ہیں وہ حرف َ آخر کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑتاہے کہ اس علم کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو آپ کی نگاہوں سے پوشیدہ ہو۔آپ روایات اور فن اسماءالرجال کے بھی عالم تھے سیرت نگاری میں بھی آپ کو حیرت انگیز کمال حاصل تھا۔غرض اپنے علم وفضل کے لحاظ سے آپ ان یادگار زمانہ لوگوں میں سے تھے جو کبھی کبھی عرصہ عالم میں آتے ہیں اور جب آتے ہیں توایک نیا عالم تخلیق کر جاتے ہیں ۔
آپ کے علم وفضل کی سر بلندی کا ثبوت آپ کی ذاتی کتب کا ذخیرہ بھی تھا ۔جو آپ نے جمع کر رکھا تھا اس زمانے میں کتب اکٹھی کر نا بہت مشکل کا م تھا کیونکہ کتب کی اشاعت زیادہ نہ تھی بلکہ چنداں تھی یاپرانی کتب سے اپنی ہاتھ سے کتب کی مشکل نقلیں بنالی جاتی تھیں ۔اور یہ خاصا مشکل کام تھا۔مگر آپ نے ہر قسم کی دشواری کے باوجود بھی دینی اور روحانی کتب خاصی تعداد میں جمع کیں ۔کشف المحجوب میں حضرت سلیم الراعی کے حالات لکھتے ہوئے آپ نے بصد حسرت لکھا ہے کہ اس وقت اس سے زیادہ لکھنا ممکن نہیں کیونکہ میری کتابیں غزنی میں رہ گئی ہیں ۔یعنی آپ نے کتابوں کے پاس نہ ہونے کی وجہ سے تفصیل میں جانے سے معذرت کی ہے ۔کشف الحجوب ہی میں آپ نے کم و بیش بیس کتابوں کے حوالے پیش کیے ہیں تو ان باتوں سے یہ حقیقت نمایا ں ہوجاتی ہے کہ آپ کی ذاتی کتب کا ذخیرہ خاصا بڑاتھا جسے آپ اپنے ساتھ لاہورمیں نہ لاسکے۔

علمی مسائل کاحل منا ظرہ کے ذریعے علمی عظمت کا اظہار استاد کے فرمان کی تشریح

علمی مسائل کاحل

آپ علمی مسائل کا حل بڑے احسن انداز میںپیش کرتے تھے جس سے مسئلہ بالکل واضح ہوجاتا ۔آپ نے اپنی کتاب میں ایک مقام پر ایک علمی مسئلہ کے بارے میں فرمایا ہے کہ ایک دفعہ میں مبتدی صوفیاءکی ایک جماعت کو مسائل سمجھا رہا تھا کہ ایک جاہل آگیا۔اس وقت اونٹوں کی زکوٰة کا مسئلہ زیر بحث تھا۔اونٹ کے تین سالہ، دوسالہ اور چارسالہ بچوں کابیان ہورہاتھا وہ جاہل مرکب تنگ آگیا اور اٹھ کر کہنے لگا کہ میرے پاس اونٹ ہی نہیں ۔بنت لبون (اونٹ کا تین سالہ بچہ )کا علم میرے کس کا م آئے گا میں نے کہا خدا کے بندے ! جس طرح زکوٰة دینے کے لیے علم کی ضرورت ہے اسی طرح زکوٰة وصول کرنے کے لیے بھی توعلم کی حاجت ہے اگر کوئی شخص تجھے بنت لبون (تین سالہ اونٹ کابچہ ) زکوٰة میں دے تو تجھے بنتِ لبون کا علم ہونا چاہئے اگر کسی شخص کے پاس مال نہ ہوا اور مال کے حصول کی بھی کوئی صور ت نہ ہو تو اس سے علم کی فرضیت سا قط تو نہیں ہوجاتی ۔غرضیکہ آپ نے علم حاصل کرنے کی ضرورت بڑے اچھے انداز میں اس پر واضح کی۔

منا ظرہ کے ذریعے علمی عظمت کا اظہار

آپ چونکہ صوفی باعمل تھے اس لیے آپ نے تصوف کی عظمت کو سربلند کرنے کے لیے بہت سے لوگوں سے مناظر ے بھی کیے تاکہ وہ راہ ِحق کو پہچان جائیں ۔ایک مناظر ے کا واقعہ آپ یوں بیان کرتے ہیں :
ایک دفعہ میں نے ہندوستان میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو تفسیر و تذکیر اور علم کا مدعی تھا اس نے اس کے معنیٰ میں مجھ سے مناظرہ کیا ۔جب میں نے اسے دیکھا تو وہ نہ فنا کو جانتا تھا اور نہ بقا کو ۔نہ قدیم حادث کے فرق کو پہچانتا تھا ایسے جاہل قسم کے لوگ بہت ہیں جو فنائے کلیت کو جائزہ جانتے ہیں حالانکہ کھلی ہٹ دھرمی اور مکابرہ ہے اس لیے کہ کسی چیز کی اجزائے ترکیبی کی فنا اور ان سے ان اجزاءکی جدائیگی جائز ہی نہیں ہے ۔میں ان جاہل خطاکاروں سے پوچھتا ہوں کہ ایسی فنا سے تمھارا کیا مدعا ہے اگر کہو کہ یہ ذات کی فنا ہے تو یہ محال ہے اور اگر یہ کہو کہ وصف کی فنا ہے تو ہم اسے جائز رکھتے ہیں کیونکہ فنا ایک علیحد ہ صفت ہے اور بقا کے ساتھ ایک اور علیحدہ صفت ہے اور ان دونو ں صفتوں سے متصف بندہ ہوگااور یہ محال ہے کہ کوئی شخص کسی جدا گانہ یعنی اپنے سوا کسی دوسرے کی صفت قائم ہو ۔

استاد کے فرمان کی تشریح 

حضرت سید علی ہجویریؒ نے فرمایاہے کہ ایک مرتبہ میں نے شیخ المشائخ ابو القاسم گر گانی ؒسے طوس میں پوچھا کہ درویش کے لیے کم از کم وہ کونسی چیز ہے جس کو اختیا ر کرنے کے بعد اس پر فقر کا لفظ درست قرار پا سکتا ہے ؟
آپ نے فرمایا کہ وہ تین چیزیں ہیں ،ان سے کم نہیں :۔
 (۱)لباس فقر کی سلائی اچھی طرح کرسکے ۔   
 (۲)سچی بات جاننے کی اہلیت رکھتا ہو ۔
(۳)اسے یہ علم ہوکہ صحیح قدم کیسے اٹھا یا جاتاہے ۔
جس وقت حضرت شیخ ؒ نے یہ بات فرمائی اس وقت میرے ساتھ درویشوں کی ایک اور جماعت بھی موجود تھی جس وقت ہم دروازے پر واپس آئے تو ان میں سے ہر ایک بجائے خو دشیخ کی بات میں اپنی طرف سے تصرف کرنے لگا ۔کچھ لوگ جہالت کی وجہ سے یہ سمجھے کہ فقر صر ف یہ ہے کہ پیوند صرف صیحح لگا سکتا ہو۔زمین پر پاﺅں مارنا جانتاہوان میں سے ہر ایک کا خیال تھا کہ میں نے شیخ کی بات بہتر طور پر سمجھی ہے ۔چونکہ شیخ کے ساتھ میرا قلبی تعلق تھا اس لیے میں نے گوارہ نہ کیا کہ ان کے فرمودات کا یہ حشر نہ ہو ۔میں نے انھیں کہا کہ آیئے تاکہ ہم سب مل جل کرحضرت شیخ کی بات کے بارے میں بات چیت کریں ۔
چنانچہ ان میں سے ہرایک شخص نے اپنا اپنا خیال ظاہر کیا ۔جب میری باری آئی تو میں نے کہا کہ اچھے پیوند سے مراد وہ پیوند ہے جو فقر کے لیے لگایا جائے نہ کہ زیب و زینت کے لیے جو پیوند فقر کی خاطر لگایا جاتا ہے وہ درست ہے اگر چہ بظاہر بے ترتیب کیوں نہ ہو ۔سچی بات سننے سے مراد یہ ہے کہ حال (واقعہ کے مطابق )کے کانوں سے سنے نہ کہ عقل اور پاﺅں زمین پر ٹھیک ٹھیک رکھنے سے مرادیہ ہے کہ قدم عالم وجد میں اٹھا یا جائے کھیل تماشے کی خاطر نہیں ۔
بعض لوگوں نے میری یہ تشریح حضرت شیخ ؒ کی خدمت میں پہنچا دی ۔آپ نے فرمایا کہ علی حقیقت کو پہنچ گیا ہے اللہ اسے اپنے پسندیدہ بندوں میں فرمائے ۔
(کشف المحجوب )

خداداد ذہانت عشقِ حقیقی

 خداداد ذہانت 

اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف سے ذہانت عطا فرمائی ۔آپ بچپن ہی سے بڑے ذہین تھے آپ کی ذہانت اور علمی صلاحیت کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے :
آپ فرماتے ہیں کہ غزنی میں شیخ بزرگ نامی ایک عمر رسیدہ شخص رہتے تھے انھوںنے فرمایا اے علی!تو ایک کتا ب لکھ جو تیری یاد گار رہے ۔میں نے کہا ، حضور!مجھے تو علم کا کچھ اتنا پتہ ہی نہیں ہے ۔میری عمر اس وقت ۲۱ سا ل کی تھی ۔جب انھوں نے اصرار کیا تو میں نے اسی عمر میں ہجویر کے اندر کتاب لکھ دی ۔اور ان کے سامنے پیش کی ۔انھوں نے فرمایا کہ ایک دن تم بزرگ ہوگے ۔میں نے کہا حضور !آپ کی نوازش ۔مجھے ان کی نصیحتیں یا د ہیں ۔کہا ، تجھے چاہئے کہ معشوق سے محبت کرے میںنے کہا معشوق کون ہے ؟فرمایاخدا۔وہ اس پر مہربانی فرماتا ہے ۔مجاز اختیار کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجاز حقیقت کے لیے پل ہے فقیروںسے محبت کر (کشف اسرار ) 

عشقِ حقیقی

آپ میں عشق حقیقی کے جذبات بہت زیادہ تھے آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات سے بے پنا ہ شوق تھا ۔اس عشق کے بارے میں خود فرماتے ہیں کہ ماورءالنہر میں ایک روز میں ایک حوض کے کنارے بیٹھا تھا ۔جب میںنے ہاتھ پانی میں ڈالا تو مجھے اپنا محبوب منظور نظر دیکھا ئی دیا ۔اسی دن سے مجھ کو معلوم ہوا کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے ۔
(اس لیے ) محبوب کو اختیا ر کر اور پھر اس پرجان نثار کر اور یہ سمجھ کہ اس کی راہ میں جان قربان ہوجائے تو بہتر ہے۔اگر دیکھنا ہی ہے تو خدا کی صنعت دیکھ ۔اپنی شمع کا پروانہ بن اور پر واہ نہ کر کہ جان پر بن جائے گی تو بہتر ہو گا ۔غرور کو تن سے نکال دے 
اس لیے اے دوست !تجھے ہی چاہیئے کہ سچا عشق ہو جائے اور اپنے پیروںو مرشد کے قدموں میں جان دے ۔مرشد کے قریب رہے اس کا دیدار کرتا رہے تا کہ حقیقت اور طریقت تک رسائی ہو ۔(انشاءاللہ ) خدا کو سب سے بہتر خبر ہے ۔
میں چاہتاہی ہوں کہ گوشہ گیر رہوں اور محبوب کے چہرے کے سوائے کسی پر نظر نہ رکھوں۔
میں علی بن عثما ن جلا بی ؒ ہوں ۔مجھے عجیب و غریب باتیں معلوم ہیں ۔میں سوائے محبوب کے کسی کو پیا ر نہیں کرتا اور اس کے دیدار کے سوا مجھے اور کوئی کا م نہیں اس کے نا م کے سوامیرا کوئی ورد وظیفہ نہیں ۔میں اس کے چاند سے جادو والے چہرے کو کبھی اس کے رخساروں کو دیکھتا ہوں ،کبھی اسکی خاک راہ کو حقیقت بین آنکھ کے لیے سرمہ کرتا ہوں ۔اس کے نقش کف پا کو بدر سمجھتا ہوں اور اس کے دانتوں کی لڑی پر جان نثار کرتا ہوں ۔اس کے سرور فتار سے فکر روشن کرتا ہوں ۔رات بھر اس کے عشق کی غم خوری ہے اور دن بھر محنت و زاری ۔میں نے دل کو یوں اس پر قربان کیا کہ بالکل بدل گیا ہوں ۔کپڑے پھاڑکر بے خود ہوگیا ہوں ۔میں خطاکا ر فقیر اور گنہگار حقیر ہوں جس نے دل خدا اور اس کے رسولﷺ کی یا د میں ہار دیا ہے ۔سوائے محبت کے اسے کوئی کام نہیں ۔جو دنیا کو ناپاک جگہ سمجھتا ہے ۔اور سرائے کہتا ہے جس میں مسافر آرام کرتے ہیں جو کبھی آسمان پر ہوتا ہے کبھی زمین پر میں نے اپنے آپ کو خاک کر لیا ہے 
جب تجھے دوستی کے راز کی خبر ہوجائے اور وہ تیرے دل میں بیٹھ جائے تو اسے سنبھا ل کر رکھ اور الٹ نہ دے ۔اور اس سے بری نہ ہوجا ۔اسی میںتیرا بھلا ہے منصور حلا ج کو دیکھا کہ اس نے دوست کے راز کا ایک رخ ظاہر کیا تو سر سے گز ر گیا اور اسکی معرفت خاک میں مل گئی ۔
حضرت علی ہجویریؒ فرماتے ہیں کہ میں نے تاج دین کو کہتے سنا کہ بھونرا پھول کے گرد خوشبو میں مست پھرا کرتا تھا ۔اس کو اس مٹی پر جہاں چنبیلی اگی ہوئی تھی تڑپتا ہوا دیکھا پوچھا ،چنبیلی کیا ہوئی ؟کہا سنا ہے جل گئی ہے ،اسے کہا گیا اے کچے !کیا عشق اسی کا نام ہے کہ تو اس کے بعد زندہ رہا اور اس کے ساتھ ہی نہ جل مرا ۔بولا یارو میں پردیس گیا تھا ۔میری عدم موجودگی میں چنبیلی برباد ہوئی ۔میں چاہتا ہوں کہ اس کی جگہ نظر آجا ئے مگر مجھے دیکھائی نہیں دیتی ۔نا چار وہ جس جگہ اگی تھی اور جہاں اس کے نشان ہیں ۔میں ا س کی مٹی تاج سمجھ کر سر پر ڈالتا ہوں ۔
محبوب کے سواکسی اور کی با ت سننا جہالت ہے اور سچا عشق بنے ۔اے علی !خاک ہوجاتا کہ اکسیر بن جائے ۔جس شخص کا روشن شریعت پر انجا م بخیر ہوا وہی نیک آدمی ٹھہرا ۔نور ہی نور شیطان سے دور ۔
پھر کہتا ہے کہ اگر تجھے نو ر اور سرور در کار ہے تو اپنے تئیں خاک کر دے تا کہ تو نیک اولا د اور نیک بیٹا گنا جائے ۔
اے علی !تو عجیب دلبستان ،یوسف کنعان اور جا ن جہان ہے ۔تو ظاہر وباطن کا جاننے والا ہے ۔لیکن تو نے کیا پڑھا کہ تو گھبرایا ہوا ہے تونے خود سے ”دشمنوں“کو دور نہیں کیا ہے اور اپنے اوپر گناہوں کی گر د جمنے دی ہے ۔اور ”جوہر“کو خود صاف نہیں کیا ہے ۔
اے علی دل میں عمارت بنا ۔ذکر الہی کی کچی پکی اینٹوں سے عمارت بنا ورنہ ہر عمارت ڈھے جاتی ہے ۔
اے علی ! تو عقل مند ہے ، بالغ ہے ، ولی ہے ،صاحبِ تاج و تخت ہوکر فقر فقیر ی کے تخت پر آرام کرنے والا ہے ۔نیکی کا درخت لگاتا کہ اس کا پھل تجھے ملے ۔تو پیر ہے ،دلپذیر ہے ۔بادشاہ کا وزیر ہے ۔تو ( اسی کا تقا ضہ کر یہی ہے ) اپنی فقیری کو خاک میں ملا دے دلگیر ی اختیا ر کرتے ہوئے ۔
اے علی !تو بادشاہ ہے ،تو مچھلی کی طرح مت چھپ ۔تو مرد راہ اور شیر دلیر ہے تو گھا س کا تنکا نہ بن ۔دیکھو ایسے نہ ہو کے تجھے روسیاہی نصیب ہو اپنے آپ کو خاک کرو تاکہ مراد ِخدا بن جائے ۔
 اے علی !تو بلند مرتبہ سورج ہے ۔بلند آسما ن ہے بلکہ سورج رکھنے والا آسما ن ہے مگرتو خاک ہوجا تا کہ مرد پر نور کہلا ئے ۔
اے علی !تیرے پاس ہیرے موتی ہیں تو خو د کو مالک سمجھتا ہے تو صرف امانت دار ہے دیکھ تو اپنے شہر میں ذلت نہ اٹھا نا ۔
بڑھیا کی طرح حرص و لالچ نہ کر ۔خداسے موافقت کر ۔اس کے کرم پر ناز کر رازمت کھول ،نماز پابندی سے اداکرنا تو کامل عمل ہے ۔امانت کا حامل ہے تو نیک بخت ہے اور آخرت میں سختی نہیں چاہتا ۔
اے دوست !تو میرے جگر کا ٹکڑا ہے ۔ان باتو ں پر عمل کر ۔
اے علی !باتیںبے کار ہیں اپنا کام کر ،عقلمندو ں سے نہیں سنا کہ تعلق توڑ واصل حق بن اور سوائے خد اکے کسی کو نہ ڈھونڈھ۔

راہِ راست کی تلقین

راہِ راست کی تلقین 

حضرت سید علی ہجویریؒ نے راہِ راست کی تلقین کرتے ہوئے کشف اسرارمیں فرمایا ہے:
تعریف اس خدا کی جس نے ہمیں عناصر اربعہ سے بنایا اور نعمت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہیں۔
فقیر بادشاہوں اور حاکموں کی دوستی اور ہم نشینی کو سانپ اور اژدہا کی دوستی جانے ۔فقیر کو بادشاہ کا قرب میسر آتا ہے تو اس کا توشہ برباد ہوجاتاہے ۔
اور چونکہ لباس پر بہت سی باتیں ہوسکتیں ہیں اس لیے اس کا ذکر کشف المحجوب میں کیا گیا ہے ۔یہاں اسی قدر کہنا کہ چار ٹوپی گوشہ سر پر رکھ کرکوئی فقیر نہیں بن جاتا ہے ۔ٹوپی چاہے کسی طرح کی سرپر رکھ مگر سچا فقیر بن ۔اور راضی برضا ہو فقیر دولت مند کی ہم نشینی کے لیے فقیری لباس پہنے تو اسے آتش پرست ،مغرور متکبر جا نو۔
اگر تو ہفت ہزاری بھی ہوجائے تو کیا ۔آخر ایک مشت خاک ہے اور خاک بھی ہوتا ہے ایک قطرہ ہے پھر اتنا غرور کس لیے ۔بالآخر دنیا سے تجھے جو کچھ ملنا ہے ،وہ چار گز کفن ہے اور خدا جانے وہ بھی ملے یا نہ ملے ۔
اے دوست !میں اور تو پردیسی ہیں ۔دعا کرکہ خد ا ہم پر کرم کرے اور اپنی یا د کا ذوق عطا کرے میں بے چارہ نہاں وآشکا را آوارہ ہوںاور ہر دم محبوب کا نام جپتا ہوں              
اے دوست !میں نے بہت دنیا دیکھی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے نیک اولاد مانگ اگر مجرد رہنے کی طاقت ہے اور سمجھتا ہے کہ ڈگمگائے گا نہیں ۔تو شادی نہ کر کیونکہ یہ بڑی بلا اور عذاب ہے ۔
مجھے ایک دوست کی بات یاد آتی ہے ،کہتا تھا کہ اے دوست !خدا کی عنایت ہوتو جنگل میںجا کر خدا کی عبادت کرو ں اور کسی سے سوائے خدا کے نہ مانگوں او رمیں (علی بن عثما ن جلا بی )اس کو دوست رکھتا ہوں جو قریب رہ کر دوست رہے ،برائیوں سے بچے تا کہ با مراد ٹھہرے ۔
بلا شبہ حضرت خضر علیہ السلام اولیا ءاللہ کے دوست ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ اولیاءاللہ کی لقا اور مشاہدہ ربانی ہوتاہے ۔
ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ دس چیزیں دس چیزوں کو کھاجاتی ہیں :
توبہ گنا ہ کو ،جھوٹ رزق کو ،چغلی عمل کو ،غم عمر کو ،صدقہ بلا کو ،غصہ عقل کو ،پشیمانی سخاوت کو ،تکبر علم کو ،نیکی بدی کو ،ظلم عدل کو ،یہ باتیں دوستوں کو بتاتا ہوں تاکہ ان پر عمل کریں اور میرے حق میں دعائے خیر کریں ۔مجھے یا د رکھیں ۔خدا کو پہچانیں اور غیر پر نگاہ نہ کریں ۔
اے دوست !دنیا پانی کی کشتی ہے اور بن پانی کا ملک ،تو غوطہ خور بن ،ڈوبنے والا نہ بن ۔وہ کر جس سے کسی کو تجھ سے فیض ملے ۔وہ نہ کر جس سے کسی کا د ل دکھے دین پناہ بادشاہ کی صفت یہ ہے کہ وہ جو رستم کو قلع قمع کرنے والا اور رعیت کے نفع نقصان کو جا ننے والاہو ۔دنیا نہ ڈھونڈ ھ۔دنیا مردار ہے اور اسکا طلب گارکتا بیان کیا گیا ہے اور عقبیٰ کا طالب بھی نہ بن اسے بھی عذاب جان ۔رضائے مولیٰ کا طالب بن
کیونکہ رضائے مولیٰ از ہمہ اولیٰ ۔حرص و لالچ بیکا ر ہیں ۔انھیں ذلت سمجھ اور طمع نہ کر جس شخص نے قناعت کی ،عزت پائی ۔طمع کرنے والا ذلیل ہوا ۔
اے طالب !اپنے حبیب لبیب کا غم پید اکر ۔راہِ خدا کا مردِ راہ بن ۔رات عبادت میں بسر کر ۔حواس کو کھول ۔زیادہ رو اور کم ہنس ۔خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ چاہیئے کم ہنسیں اور بہت روئیں ۔“صبح کے وقت دریا پر جا ۔حضرت خضر علیہ السلام سے محبت کر اور اسم مذکور کا ذکر کر تاکہ منزل مقصود پر پہنچے ۔
لازم ہے کہ تو خواہشاتِ نفس کی طرف میل نہ رکھے ۔لوگوں سے ملنا جلنا ترک کر ے تنہائی اختیا ر کر اور جو نذر نذرانہ ملے درویشوں میں تقسیم کردے اور اپنے پا س کچھ نہ رکھے خدا کے سوا کسی سے لو نہ لگائے ۔کسی قبر پر سے گزرہوتو پڑھ کر اسے بخشے تا کہ وہ بھی تیرے حق میں دعا کرے اگر کھجور کی کٹھلی بھی تیر ے ذمے ہے تو اسے ادا کردے اپنے پاس کچھ نہ رکھ ۔
شرک نہ کر ،جب تک جا ن میں جا ن ہے اسے وحدہ لا شریک خیا ل کر ۔
اپنے آپ کو پردیسی او ر مسافر جا ن کہ افضل ا لبشرپیغمبر اور محبوب خالق ﷺ اکبر نے کہا ہے کہ دنیا میں یوں رہو جیسے تم پردیسی ہویا مسافر ۔

ذوقِ شعر گوئی 

آپ نے عشق الٰہی کے غلبہ میں آکرکئی اشعار کہے ہیں جو حقیقت اور معرفت سے لبریز تھے ۔آپ کی شاعری پر مشتمل دو کتب تھیں ایک دیوانِ شعر اور دوسرا رسالہ کشف الاسرار ۔ان میں سے تو پہلی کتا ب نہ پیدہے اور دوسر ی کتا ب ملتی ہے ۔
کشف الاسرار میں بھی آپ نے اپنے دیوان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ میں نے بہت سے شعر کہے ہیں بلکہ ایک دیوان بھی تیا ر کیا ہے جو دیکھنے والوںکی نظر میں بہت پسند اور مرغوب ہوا ہے ؛
شاعری میں آپ نے کسی سے اصلا ح نہیں لی اور نہ تکلف اور غور اور تصنع ،اور دماغ سوزی کو شاعر ی میں دخل دیا ہے بلکہ بے ساختہ جو زبان پر آیا ہے اور یاد الہٰی نے جس قسم کی تڑپ پیدا کی ہے ویسے ہی اشعار موزو ں ہوتے گئے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں ۔
”اے مرید !میں ہر روز یار کے دیدار کو جاتا ہوں اور وہ کبھی کبھی مجھے جلوہ بھی دیکھاتا ہے اور میں نے اپنے دیوان کو اسی حال میں کہا ہے کہ جب یا ر کا منہ دیکھا جو کچھ بے اختیار منہ سے بغیر کسی فکر سے نکلتا گیا دیوان بن گیا ۔“
اشتیاقت روزو شب وارم دلا   عشق تو وارم نہاں ونر ملا 
جاں تجوا ہم داد اندرکوئے تو   گر مرا آزاد آید یا ہلا 
سوزِ تو وارم بسانِ جا ن و دل   مید ہم از عشق تو ہر سو صدا 
یا خداوند ! رقیباں را بکش   مست دریاوت مگر داں یا مرا 
یا رم من !واری شراب ِ جا م خوش  مہربانی کن بمن غم مبتلا  
دلبرا از تو ہمی خواہم لقا   کن تو آرے ومکن ہر گز تو لا 
     اے علی !تو فرخی ور شہر و کُو 
     وہ ز عشق خو یشتن ہر صدا 
 اشعار کا ترجمعہ :۔
(۱) دن کو مجھے تیری آرزو رہتی ہے اور رات کو تیر ی محبت ،چھپ کر بھی اور ظاہر میں بھی تیر ے عشق کا اظہار کر تا ہوں ۔
(۲)میں تیر ی گلی میں اپنی جان دے دو گا خواہ اس کے نتیجہ میں مجھے تکلیف پہنچے یا مصیبت ٹوٹے ۔
(۳) تیرے عشق نے میرے دل و جا ن میں گھر کیا ہوا ہے میں ہر طرف تیرے ہی عشق کے چرچے کر رہا ہوں ۔
(۴) اے خدا !رقیبوں کو ختم کردے یا مجھے یا د میں اس قدر محو کردے کہ مجھے ان کی پر واہ نہ رہے ۔
(۵)میرے پیالے میں اپنے دوست کی شراب ہے تو اسے مجھ پر مہربا ن بھی کر اور اسے میر ا مبتلا بھی کردے ۔
(۶) کتنی عجیب بات ہے کہ میں تجھ سے دید کی خواہش کروں اگر تیری عادت ہاں کرنے کی ہے تو پھر مجھ سے بھی انکا ر نہ کرنا ۔(۷)اے علی !تو شہروں او ر گلی کوچوں میں خوش قسمت ہے تو اپنے عشق کا بول بالا کردے ۔
میں کہتا ہوں خد اکی تعریف ہر دم کرنی چاہیئے کیونکہ وہی پشت و پناہ ہے اور وہی فریا د درس ہے ۔

Sunday, November 30, 2014

حضرت علی ہجویر ی ؒ کی مناجات

حضرت علی ہجویر ی ؒ کی مناجات 

کشف الااسرار میں ایک مقام پر آپ نے اللہ کے حضور اپنے لیے التجا کرتے ہوئے یوں دعا کی ہے کہ :

یا اللہ میرے دل کو روشن چراغ بنا ،اپنی یاد کا شو ق بخش ،دل کو غیر سے خالی کر پیرو مرشد کو مجھ پر مہربان کر ۔پہلے میرے دل کو شکر بخش ،پھر مجھے دولت دے ۔پہلے دل کو کدوت سے پاک کر ،پھر اپنے راز سے نواز ،پہلے صبر دے اور پھر بیماری ،یا اللہ مجھے وہ دے جو بہتر ہے ۔پسندیدہ کی توفیق دے ۔

خداتعالیٰ حکیم و علیم و عزیز و شفیق ہے اس کا لطف عام ہے وہ کریم ہے رحیم ہے رحما ن ،غفار ،قہار ،جبار،وہاب،سلطان ،منان ہے ۔اللہ گنہگار وں کا فریاد رس ہے میری دعا ہے کہ میری زبان شہادت کے وقت نہ رُکے اور مجھے آٹھ جنتیںعطا کر اور میرامعشوق میرے پہلو میں ہو ۔مجھے عذاب میں گرفتا ر نہ کر ۔میں بیمار بے حال ہوں تو شافی و کا فی ہے میرے واسطے ۔

یا اللہ !علی کی عاجزی پر رحم کر اور بہ طفیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے بخش دے اس پر رحم کر ۔وہ عاجز بے کس ہے ۔اس کا کوئی یا رو مدد گا ر نہیںہے ۔وہ تیرے سوا کسی کو نہیںچاہتا اور تیرے نام کو جپتا ہے ۔عربت کے سوا اس کے ہاتھو ں میں کچھ نہیں ہے خدایا بے کس پر رحم کر ۔تورحیم ہے ، حلیم ہے ،شفیق ہے ۔میں گناہ کے سمندر میں ڈوبا ہوں تو بخشش کر ۔

اے انسان !طالب حق بن ۔تکلیف سے نہ ڈر ،فقیری مشکل ہے ،علم سیکھ ، عمل کر ،والدین کی خدمت کر تا کہ منزل پر پہنچے ۔انشاءاللہ !صدر نشین ہوگا ۔خداکا کرم تیرے شامل حال ہوگا ۔خداکی تعریف ہر دم کرو ۔وہ علیم و حکیم ہے ۔بار خدایا میرے گنا ہ ڈھانپ ۔مجھے خداری دے ۔میںحقیر پر تقصیر عاجز ہوں ،اے بصیر !مجھ پر رحم کر کمزور ہوں اور تو قادر توانا ۔

اے دوست !خدا جو عنایت کرتا ہے ا س پر راضی رہ ۔اگرویرانہ دے اس میں رہ ،شہر دے تووہاں رہ ،وطن یا بے وطن سب پر راضی ہو وہ گدڑی دے یا قاقم شکر بجا لا گھوڑا ہو یا گدھا سوار ہو ۔وہ اللہ کی نعمت ہے اور اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا احسان مند رہ 

گنج بخش کالقب 

حضرت داتا گنج بخش کی جلا لت شان اور مرتبہ کی عظمت کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ خواجہ خواجگان سلطان الہند حضرت سید معین الدین چشتی ؒ اور حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ؒ جیسے جلیل القدر بزرگوں کے علاوہ حضرت میا ں میر قادری اور محدث کبیر حضرت شاہ محمد غوث قادری لاہوریؒ نے آپ کے مزار مبارک پر معتکف رہ کر فیض پایا اور منازل سلوک و معرفت طے کیے ۔درار شکوہ شہزادے نے اپنی مشہو رتصنیف سفینة الاولیا ءمیں یہ تصریح کی ہے کہ جو شخص چالیس دن تک بلا نا غہ مزار ِ داتا پر حاضری دے ، اللہ تعالیٰ اس کی ہر حاجت پوری فرمادیتا ہے ۔

وصال کے بعد اولیائے کرام کے فیوض و برکات کا جاری رہنا کتاب وسنت سے واضح اور ثابت ہے ۔حضرت داتا گنج بخش ؒ کی اسی فیض رسانی خلق سے متا ثر ہو کر علامہ ڈاکٹر محمد اقبا ل مرحوم بارگاہِ گنج بخش میں عرض کرتے ہیں 

سید ہجویر مخدوم ِ اُمم 

مرقد ِ اُو پیر سنجررا حرم 

حضرت داتا گنج بخش ؒ کی اس فیض رسانی نے عوام و خواص کے دل موہ لیے لوگوں نے جو چاہا سو پایا ۔اس فیض سے گرویدہ ہو کر لوگوں نے آپ کو گنج بخش کہنا شروع کر دیا مزید برآں یہ بھی وجہ ہے کہ آپ کی ذات سے ظاہری و باطنی فیض حاصل ہوا ۔آپ سے علم و دانش کے چشمے پھوٹے ۔آپ نے لوگوں کو ان کے مقصد حیات سے روشن کروایا آپ نے زندگی کے راز کھول کر لوگوں کے سامنے رکھ دیے ۔لوگوں کو روحانی زندگی سے متعارف کروایا ۔لاکھوں انسانوں نے آپ کے ہاتھوں اسلام قبول کیا ۔آپ کے ۴۳ سالہ قیام لاہور کے دوران تبلیغ اور فروغ اسلام کا فریضہ آپ کے ہاتھوں بامِ عروج پر پہنچ گیا ۔یہی وجہ تھی کہ خاص و عام نے آپ کو گنج بخش کہنا شروع کردیا ۔

گنج بخش کا لفظ جو آپ کے نام سے پہلے لکھا پڑھااور بولا جاتا ہے اس کی یہ بھی ایک وجہ ہے کہ جب حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ نے آپ کے مزار پر چلہ کشی کے بعد روانگی کے لیے آپ سے اجازت طلب کی تو ایک دم آپ کی زبان پر یہ شعر آگیا اورا سی وقت سے گنج بخش کا لفظ مقبولِ عام ہوگیا 

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا 

ناقصاںرا پیرکا مل ، کاملا ں را راہ نما 

سوانح حیا ت حضرت داتا گنج بخش ؒ از محمد دین فوق میں لکھا ہے کہ جب حضرت کی اپنی تحریر شدہ کتا ب کشف الاسرار دیکھی جاتی ہے تو مندرجہ بالا ذہن سے فوارًمنتقل ہوجاتا ہے کہ کیونکہ وہ کتا ب بتاتی ہے کہ حضرت کی زندگی میں ہی آپ کا نام حضرت داتا گنج بخش مشہور ہوگیا تھا جیسا کہ کشف الااسرار میں لکھا ہے ۔

”اے علی !لوگ تجھے گنج بخش داتا کے لقب سے پکارتے ہیں (حالانکہ ) تیرے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو اس قسم کے خیا لات کو اپنے دل میں جگہ مت دے یہ سخت تکبر کی بات ہے ۔گنج بخش ہو یا رنج بخش،یہ سب صفات ذات حق کے لیے مخصوص ہیں ۔“

حضرت سیدعلی ہجویریؒ کی تحریر کے اس اقتباس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گنج بخش داتا کا لقب حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے چلہ کش ہونے سے بہت پہلے خود حضرت علی ہجویریؒ کی زندگی میں مشہور ہو چکا تھا مگر خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے شعر کہنے سے یہ شہرت پہلے سے زیادہ دو بالا ہوگئی ۔دوسر ے یہ کہ حضرت علی ہجویری ؒ نے خود اس لقب کو پسند نہیں کیا اور یہ مشورہ دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اس لفظ کا استعمال بہت زیادہ بہتر ہے ۔

”سید ہجویر میں لکھا ہے کہ گنج بخش کا لقب آپ کو سجتا ہے آپ نے پوری زندگی معرفت کا خزانہ ہی تقسیم کیا ہے آپ نے کشف المحجوب جیسا علمی خزانہ اپنے بعد چھوڑا ہے جسے بجا طور پر تصوف کادستور العمل کہا جاسکتا ہے اہل باطن اس سے سب کچھ پالیتے ہیں ۔الغرض علم و عرفان کا خزانہ لٹانے کے معنوں میں گنج بخش کا لفظ استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

ازدواجی زندگی 

شادی کرنا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔اس لیے ہر باشرع بزرگ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتبا ع میں نکاح کیا ۔آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ نے سنت مصطفی کے مطابق شادی کی مگر اللہ تعالیٰ نے زیادہ عرصہ اس میں مشغول نہ رہنے دیا ۔کشف المحجوب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی ہجویر ی نے دو نکاح کیے ۔پہلی شادی ابتداءجوانی میں ہوئی مگر وہ عفیفہ جلد ہی وفات پا گئیں ۔پہلی بیوی کے انتقا ل کے بعد تجرد اختیا ر کر لیا ۔یہ سلسلہ تقریبا ً گیا رہ سا ل قائم رہا ۔حتٰی کے دوسرے نکاح کا موقعہ خود بخود فراہم ہو گیا جس کے بارے میں آپ اس طرح فرماتے ہیں ۔:

”میں کہ علی بن عثما ن جلا بی ہوں ۔خداوند کریم نے مجھے گیارہ برس تک نکاح کی آفت سے بچایا ہواتھا مگر تقدیر نے مجھے آخر نکاح میں گرفتار کر دیا ۔اور ارادہ خواہش کے بغیر اس فتنے میں پھنس گیا ۔واقعہ یہ ہو اکہ ایک پر ی صفت کا بن دیکھے عاشق و شیفةہو گیا ۔ایک سال اسی پریشانی اور اضطرب میں مبتلارہا ۔چنانچہ نزدیک تھا کہ میر ا دین و ایمان تباہ ہوجائے کہ حق تعالیٰ نے اپنے کمال لطف و کرم سے عصمت و عفت کو میرے قلب کے استقبال کے لیے بھیجا اور اپنی رحمت اور اعانت سے مجھے اس عظیم فتنے سے نجات دی ۔“

اس عبارت سے یہ بات اخذ نہیںہوتی کہ آپ کی پہلی شادی کب ہوئی اور کہاں ہوئی مگر دوسری شادی کا ذکر کرتے ہوئے مندرجہ بالا عبارت میں جو یہ بات لکھی ہے کہ گیارہ سال سے نکاح کی آفت سے بچائے ہوا تھا ،مقدر نے آخر اس میں پھنسادیا اور میں عیال کی صحبت میںدل وجان سے بن دیکھے ہی گرفتار ہوگیا ۔“یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ آپ بچپن ہی سے مناکحت کی زنجیروں میںجکڑ دیے گئے تھے اور پہلی بیوی کے انتقال کے بعد گیا رہ سا ل تک دوسرا نکاح نہیں کیا تھا ۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ آپ کی پہلی شادی بھی والدین کی موجودگی میں ہوئی تھی اور دوسر ی شادی بھی ان کی موجودگی بلکہ یقیناانھی کے اصرار سے ہوئی ہو گی ۔کیونکہ حضرت نے کشف المحجوب اور کشف الاسرار میں عورتوں سے خدا کی پناہ طلب کی ہے ۔اور ان کی ذات کو فتنہ وفساد کی مخزن قراردیا ہے بلکہ آپ نے بھی اپنی دونوں متذکرہ بالا کتا بوں میں حالتِ تجرید ہی کو پسند کیا ہے ۔نکاح ثانی کے بعد آپ کے یہ الفاظ کہ خدا تعالیٰ نے اس آفت سے بچایا ہوا ہے ۔اب مقدر نے اس میں پھر پھنسا دیا ہے ۔آپ کی دلی ناپسندید گی کا روشن عکس ہے مگر والدین کے ادب و احترام کی وجہ سے اعلانیہ انکا ر نہیں کرسکتے تھے ۔

آپ کی دوسر ی بیوی صرف ایک سال زندہ رہیںاور آپ جلد ہی اس بار سے سبکدوش ہوگئے ۔ان دونوں میں سے کسی نہ کسی بیوی کے بطن سے اولاد بھی پیدا ہوئی کیونکہ آپ کی کنیت ”ابو الحسن “سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے یہاں فرزند تولد ہوا جس کا نام آپ نے حسن رکھا تھا مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا یہ بیٹا صغر سنی میں فوت ہوگیا تھا۔

حنفی مسلک 

حضرت سیدعلی ہجویری ؒ حنفی مسلک کے پیرو کا ر تھے ۔اسلامی شریعت کے ترجمان مختلف مسالک فقہ ہیں ۔فقہ ان مسالک میں فقہ حنفی کو ایک ممتاز حیثیت حاصل ہے ۔بیشتر اولیاءاور صوفیاءکاتعلق حنفی مشرب ہی سے ہے ۔کیونکہ فقہ کا یہ مسلک بڑا مقبول ہے ۔کشف المحجوب کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ حضرت سید علی ہجویر یؒ مسلک اہل سنت وجماعت سے تعلق رکھتے تھے ۔اس مسلک کے تر جمان حضرت امام ابو حنیفہ ؒ ہیں اور آپ کو ان کی ذات گرامی سے بڑی عقیدت تھی ۔اسی وجہ سے آپ نے اپنی کتا ب میں متعدد مقامات پر ان کا ذکر بڑے احترا م سے کیا ہے آپ نے ان کی شان میں فرمایا ہے کہ اماموں کے امام اہل سنت و الجماعت کے مقتدا ،فقہار کے سرتاج ،علماءکا طرئہ امتیازحضرت ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الخراز ؒ ہیں ۔مجاہدات اور عبادات میں آپ بڑے صاحب ِ استقامت تھے اور طریقت کے اصولوں میں بڑی بلند شان کے مالک تھے ۔

حضرت امام اعظم کے بارے میں خواب 

پھر آپ نے اپنے ایک خوا ب کا ذکر کیا ہے جس سے حضرت امام ابوحنیفہؒ کا بلند مقام ظاہر ہوتا ہے آپ نے اپنا خواب بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں ایک دفعہ شام میں مو ¿ذنِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے مزار پر سو رہا تھا خواب میںدیکھا کہ میں مکہ معظمہ میں ہوں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک بزرگ کو بچوں کی طرح شفقت سے اپنی بغل میں لیے باب بنی شیبہ سے اندر تشریف لارہے ہیں ۔میں دوڑا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پاﺅں چومے ۔حیران تھا کہ یہ بزرگ کون ہیں ۔اور یہ کیا صورت ہے ؟آپ نور باطن سے میرے دل کی کیفیت پر مطلع ہوگئے ۔اور فرمایا تیرا امام ہے اور تیرے ہی علاقے کا رہنے والا ہے ۔مجھے اپنے علاقے کے اعزاز پر بڑی خوشی ہوئی اور خواب سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ آپ ان لوگوں میں سے تھے جو اپنی طبیعت کے اوصاف سے فانی اور احکام شرع کے اعتبار سے باقی اور قائم ہوتے ہیں ۔اسی لیے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اٹھا کر لائے اگر وہ خود چل کر آتے تو باقی الصفة ہوتے اور باقی الصفة کبھی منزل مقصود کوپہنچ جاتے ہیں اور کبھی نہیں مگرآپ کو لانے والے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔لہٰذ ا وہ خود اپنی صفات سے فانی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت ِ بقا کے ساتھ قائم تھے ۔لہذ ا جس طرح سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم خطا سے بالا تر ہیں اسی طرح ان سے بھی خطا سر زد نہیں ہوسکتی جو آپ کی صفات کے ساتھ قائم ہوں ۔یہ ایک باریک نکتہ ہے ۔
آپ کے اس خواب سے حضرت امام اعظم ؒ کی شان ظاہر ہوتی ہے کہ آپ کی شان اتنی بلند ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شرع کو اس کے حقیقی معنوں میں فروغ دیا اور تبلیغ دین کا صحیح فریضہ ادا کیا ۔اس لیے آپ حنفی مسلک کو دوسرے مسالک پر ترجیح دیتے ہوئے اس کے پیروکا ر تھے ۔

حضرت سید علی ہجویر یؒ کی تصانیف

حضرت سید علی ہجویر یؒ کی تصانیف

حضرت سید علی ہجویریؒ اللہ تعالیٰ کے ان برگزیدہ بزرگوں میں سے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ظاہری علوم ِ شریعت کے ساتھ باطنی علوم سے بھی مالا مال کیا تھا آپ کو قرآن حدیث اور فقہ پر کامل عبور حاصل تھا ۔اس کے علاوہ آپ نے حصولِ معرفت کے لیے بے پنا ہ ریا ضت و عبادت کی تھی ۔زہدہ تقوی کی راہ اختیار کی تھی ۔جس سے راہِ معرفت کے بے پناہ اسرارو رموز آپ پر عیاں تھے ۔پھر اس کے ساتھ ساتھ آپ نے حصولِ علم اور اللہ کے بندوں کی ملاقات کے لیے بہت سے علا قوں کی سیر وسیاحت کی اس سے آپ کو بہت سا مشاہدہ بھی ہوا ۔ان ساری خوبیوں کے جواہر کوآپ نے اپنی تصانیف کے روپ میں مخلوق خدا کی بہتری کے لیے صفحہ قرطاس پر منتقل کیا ہے ۔
آپ کی تصانیف میں شریعت اور علم و عرفان کا سمندر موجزن ہے اس لیے طالبانِ حق و صداقت کو حصول معر فت میں راہنمائی حاصل ہوتی ہے اس لیے کہا جاتا ہے کہ جس صوفی کو کوئی ظاہر مرشد نہ مل سکے تو وہ آپ کی کتب کا مطالعہ کرے تو اسے راہِ معرفت کی راہنمائی مل جائے گی ۔اس لحاظ سے بے شمار راہِ سلوک کے مسافروں کو راہِ ہدایت میسر آئی ہے آپ نے جو کتب تحریر فرمائی ہیں ان کا اجمالاًتعارف پیش کیا جاتا ہے ۔

دیوان شعر 

نوعمر ی میں ہی آپ کو تصنیف وتالیف کا شوق پیداہوگیا تھا ۔یہ دیوان صوفیانہ اور عارفانہ کلام پر مبنی تھااس کے بارے میں آپ نے فرمایا ہے کہ ایک شخص نے پڑھنے کے لئے لیااور اس نے دیوان پر جہاں میرا نام تھا اپنا نام لکھ دیا اس طرح میری ساری محنت ضائع ہو گئی ۔کیونکہ میرے پاس ایک ہی نسخہ تھا جو میں نے اسے دے دیا ۔

منہاج الدین 

یہ کتا ب علم تصوف سے تعلق رکھتی تھی اور غزنی کے قیا م کے دوران لکھی گئی تھی مگر افسوس کہ آپ کے ہم جلیسوں میں سے ایک شخص نے اسے اڑا لیا اور اس پر سے آپ کا نام کاٹ کر اپنا نام لکھ دیا ۔یہ شخص ”منہاج الدین “کے مضامین لوگوں کو سنتا اور کہتا کہ یہ میری تصنیف ہے ۔ناواقف لوگ اسے اس کی کاوش کی داد دیتے ۔مگر آپ فرماتے ہیں کہ جو لوگ اہل حقیقت سے واقف تھے وہ اس کے اس دعوے پر دل ہی دل میں ہنستے تھے ۔حضرت علی ہجویریؒ کو اس کتا ب کی چوری کا بڑا قلق ہوا اور آپ نے بڑے دکھے ہوئے دل سے فرمایاکہ اللہ اس کانام روشن نہ کرے ۔چنانچہ ایسا ہی ہوایہ کتاب طریقِ تصوف کے بیان میں تھی ۔اس میں اصحابِ صفہ کے مناقب تھے ۔اس کے علاوہ حضرت حسین بن منصور حلاج کے احوال کی ابتدا اور انتہاکو بیان کیا گیا تھا ۔

البیان لا ہل العیان

اس کتا ب کا ذکر آپ نے اپنی کتا ب کشف المحجوب میں اس طرح کیا ہے کہ ابتدائی زمانے میں میں نے ایک کتاب ”البیان لا ہل العیان “کے نام سے لکھی تھی اس کتا ب میں دنیا کی ناپائداری پر روشنی ڈالی گئی ۔یعنی اس کتا ب میں یہ بتایا گیا تھا کہ جو طالب اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی طرف لگاتے ہیں وہ دنیا کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اس بات کی دلیل میں معراج کا واقعہ پیش کیا گیا ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کون و مکا ن کی سیر کرائی گئی توآپ نے مشاہدئہ حق کے سواکسی طرف توجہ نہ دی مگر آپ کی یہ کتاب بھی نہ پید ہے ۔

اسرارالخرق والئمونیا ت 

اس کتاب میں درویش کے ظاہر اور باطن کی وضاحت کی گئی ہے کہ ظاہر ی اور باطنی طور پر درویش میں کن خوبیوں کا ہونا ضروری ہے ۔اس بات پر بڑازور دیا کہ ظاہر کے ساتھ باطن کو پاکیزہ رکھنے سے معرفت جلد حاصل ہوتی ہے اس کے علاوہ اس کتاب میں آپ نے یہ بات بتائی ہے کہ حصولِ روحانیت کے لیے محبت ،حفاظت نفس اورپاکیزگی از حد لازم ہے لہذا جو درویشی کی راہ میں قد م رکھے اسے چاہیئے کہ ان تینوں باتوں پر عمل پیرا ہوجائے ۔اس کتاب کا ذکر حضرت سید علی ہجویری ؒ نے اپنی کتاب میں یوں فرمایا ہے کہ یہ کتاب میں نے شیخ اور مرید کے بارے میں لکھی تھی لہذا مریدوں کو اپنی اصلا ح کے لیے اس کا ایک نسخہ پاس رکھنا چاہیئے ۔آپ فرماتے ہیں کہ میرے پاس اس کا ایک ہی نسخہ تھا جو مروہ میں رہ گیا ہے اس لیے لاہور میں آپ یہ کتاب نہ لاسکے اس لیے یہ بھی ناپید ہوگئی ۔

الرعایت بحقوق اللہ 

آپ نے یہ کتا ب مسئلہ توحید کے بارے میں تصنیف کی ہے ۔اس میں اللہ تعالیٰ کے تما م وہ حقوق بیان کیے ہیں جو بندوں پر عائد ہوتے ہیں ۔اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر بھی بڑا زور دیا گیا ہے اور دلائل توحید پر بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔جولوگ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری چیزوں کو معبود مانتے ہیں ان کا قوی قرآنی دلائل اور براہین سے روکا گیا ہے ۔
یہ کتاب بھی نایا ب ہے ۔آپ نے کشف المحجوب میں اس کا ذکر یوں بیان کیا ہے کہ ”الرعایت بحقوق اللہ “کے نام سے ایک کتاب تصنیف کرچکا ہوں لہذا توحید کی وضاحت کے لیے ہر طالب کو چاہیئے کہ اس کتاب کا مطالعہ کرے ۔