Tuesday, December 2, 2014

کشف و کرامات

کشف و کرامات 
کرامت کا لفظ کرم سے ہے ۔اللہ تعالیٰ کے کرم سے ایسا فعل جو اس کے ولی سے سر زد ہو جس سے انسانی عقل اور قوت عاجز ہو جائے ،کرامت کہلاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کے ولیوں کے سامنے جب باطل قو ت آ کر ٹکر لیتی ہے تو اللہ اپنے ولیوں کو سچا کرنے کے لیے ان سے ایسی طاقت کا اظہار کرواتا ہے جس سے باطل عاجز ہوجا تا ہے ،تو یہ کرامت بن جاتی ہے ۔صوفیا ءکے نزدیک اللہ کے بندوں سے کرامت کا سر زد ہونا برحق ہے ۔جس طرح ولایت نبوت کے زیر سایہ ہے ایسے ہی کرامت بھی معجزہ کے تابع ہے یعنی ولی کی کرامت بنی کے معجز کا عکس ہے ۔نبوت معجزے کے اظہار سے اثبات نبوت کا دعوی ہے ۔ولی ، نبی کے دعوی کی تصدیق کرنے والا ہوتا ہے ،یعنی اس کے تابع ہوتا ہے ۔
معجز ہ کا ظہور پیغمبر سے اور کرامت کا ظہور اللہ کے ولی سے ہوتا ہے ۔صاحبِ معجزہ شروع میں تصر ف پیدا کر سکتا ہے کیونکہ وہ خدا کانبیہوتا ہے اور صاحبِ کرامت کے لیے اتباع شریعت ضروری ہے ۔کیونکہ ولی کی کرامت شرع کے بر عکس نہیں ہوتی ہے ۔بلکہ عین شرع کو حق ثابت کرنے کے لیے ہوتی ہے ۔
کرامت اللہ تعالیٰ کی عنائتوں میں سے ہے ۔حضرت سید علی ہجویری ؒ کاملین میں سے ہیں ۔اس لیے آپ سے کر امات کا اظہا ر ہوا ۔اللہ تعالیٰ نے آ پ کو کرامات کے ظہور سے مکرم کیا ۔بیشمار کرامات آپ سے سر زد ہوئیں مگر وہ صفئحہ قرطاس پر نہیں آسکیں ۔آپ کی کرامتوں میں سے جو تذکروں میں موجود ہیں وہ حسب ِ ذیل ہیں :

بے شمار ہندوﺅں کا مسلما ن ہونا 

سوانح حیات حضرت داتا گنج بخش ؒ میں لکھاہے کہ حضرت سید علی ہجویری ؒ ایک مرتبہ شہر میں اس طرف گئے جہاں راستے میں ہندوﺅ ں کے مند ر واقع تھا ۔آج کل یہ علاقہ رنگ محل کے قریب پا نی والا کے نا م سے منسوب ہے ۔یہاں اس دور میں راوی مند ر تھا ،جہاں کئی ہندو بتو ں کی پوجا میں مصروف رہتے تھے ۔آپ نے مندر کے قریب جاکر دیکھا کہ ایک ہندو ایک بت کے سامنے کھڑا ہے اور ہاتھ میں گندم کی روٹی کی بنی ہوئی چوری ہے آپ نے بت کو مخاطب ہوکر کہا کہ اللہ کے حکم سے چور ی کھاﺅ۔تو وہ بت چوری کھانے لگا ۔کچھ اور ہندو بھی وہاں موجو د تھے ان میں ہندو پروہت بھی تھا ۔ہندو پروہت کو بڑا دکھ ہوا کہ ہم سے ایسے واقعا ت نہیں ہو تے اس لیے ہماری توہین ہوئی ہے لہٰذا وہ ا س ہندو سے ناراض ہوگیا جس کے ہاتھ میں چوری تھی ۔بہانہ بنا کر پروہت نے کہا تمھارے اس طرح کرنے سے دیوتا جی ہم سے ناراض ہوگئے ہیں ۔لہٰذا آج سے ہمارا اور تمھارابائیکاٹ ہے ۔
کچھ روز کے بعد وہ چوری والا ہندوآپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ حضرت !لوگ اس روز کے واقع سے انکار کررہے ہیں ۔میری بات کو کوئی سچ نہیں مانتا ۔آپ نے فرمایا تم اپنے رشتہ داروں اور دیگر احباب کو اکٹھا کر لو اور اللہ کی طاقت دیکھ لو ۔حاضرین جمع ہو گئے ۔آپ نے پھر بت کو حکم دیا چوری کھاﺅ تو وہ چوری کھانے لگا ۔ہندو لوگ یہ واقعہ دیکھ کر حیرت زدہ ہوئے تو آپ نے لوگوں سے کہا کہ اللہ ہر کام کرنے کی طاقت رکھتا ہے لہذا تم ان بے جان بتوں کی پوجا سے تو بہ کر لو اور اللہ کے سچے دین میں آجاﺅ۔تو آپ کی اس توجہ سے بے شمار لوگ کلمہ پڑ ھ کر مسلمان ہوگئے یہ واقعہ پہلے لوگوںمیں سینہ بہ سینہ تھا ،لیکن کچھ عرصہ سے لوگوں نے کتابوں میں نقل کر دیا حقیقت اللہ کو معلوم ہے۔

دودھ میں برکت کا واقعہ 

روایت مشہور ہے کہ ایک روز حضرت سید علی ہجویری ؒ اپنی قیام گاہ پر تشریف فرما تھے اور یاد الٰہی میں مصروف تھے ۔ایک بوڑھی عورت اس طرف سے گزری جس کے سر پر دودھ کا مٹکا رکھا ہواتھا ۔آپ نے اس عورت سے پوچھا کہ تم اس دودھ کی قیمت لے لو اور یہ دودھ ہمیں دے جاﺅ۔اس عورت نے کہا کہ میں یہ دودھ آپ کو نہیں دے سکتی ۔کیونکہ ہم یہ دودھ رائے راجو کو دیتے ہیں ۔اگر نہ دیں تو اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ہماری بھینسوں کے تھنوں سے دودھ کی بجائے خون نکلنے لگتا ہے ۔آ پ نے عورت کی بات سن کر کہا کہ یہ دودھ ہمیں دے جاﺅتو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تمھاری بھینسوں کے تھنوں سے خون نہیں نکلے گا ۔اور وہ پہلے کی نسبت زیادہ دودھ دیں گی انشاءاللہ !اس کے علاوہ ہر قسم کی آفت سے بھی محفوظ رہیں گی یعنی تمھیں کسی قسم کا نقصان نہیں ہو گا ۔آ پ کی ایما ن فروز باتوں سے وہ عورت اس بات پر رضا مند ہوگئی کہ دودھ آپ کو دے جائے ۔چنانچہ اس نے دودھ آپکو دے دیا ۔اور واپس لوٹ گئی شام کو جب اس نے اپنے جانوروں کو دو ہا تو جانوروں نے پہلے کی نسبت بہت زیادہ دودھ دیااس کے سب برتن بھر گئے ۔یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کے دودھ میں بے پناہ برکت ڈال دی ۔
یہ خبر بہت جلد لاہور میں پھیل گئی ۔آخر یہ بات لاہور کے گردو نواح کے دیہاتوں میں جا پہنچی کہ لاہو ر کے باہر ایک اللہ کا فقیر ہے اگر اسے دودھ دیا جائے تو اللہ تعالیٰ ا س کے دودھ میں برکت ڈال دےتا ہے اور دودھ پہلے کی نسبت زیادہ ہو جاتا ہے ۔چنا نچہ لو گ برکت کی خاطر دودھ آپ کے پاس لے آتے ۔آپ ضرورت کے مطابق لے لیتے اور بقیہ دودھ انھی لوگوں میں تقسیم کردیتے اور جب یہ لوگ گھر جا کر اپنے جانوروں کا دودھ دو ہتے تو اس میں برکت شامل ہوجا تی اور وہ پہلے کی نسبت زیادہ ہوجاتا ۔
اس کرامت کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لو گ جو رائے راجوکودودھ دیتے تھے وہ دودھ دینا چھوڑگئے اور اس کے خلاف ہوگئے ۔وہ اپنے جادو کے زور سے ان سے دودھ کا نذرانہ وصول کرتا تھا ۔اسے بہت تکبر تھا کہ ہما ر ا دودھ کیونکر کوئی بند کر سکتا ہے جب اسے اصل حال معلوم ہوا کہ اللہ کے فقیر کی دعا سے اس کا جادو اب بھینسوں کے تھنوں پر نہیں چلتا تو اس نے سوچا کہ پہلے سے جادو کو تیز کیوں نہ کر دیا جائے اور اس فقیر کو یہاں سے بھگادیا جائے ۔جس کے پاس لوگ دودھ کا تحفہ دینا شروع ہوگئے ہیں مگر اسے کیا خبر تھی کہ اللہ کے فقیر کی کیا طاقت ہوتی ہے۔اللہ کی رحمت اورمددہر وقت ان کی شامل حال رہتی ہے ۔
آخر کار وہ انتقامی جذبے کے تحت ایک روزآپ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے ہمارا دودھ تو بند کر وادیا اب ہمارے ساتھ مقابلہ کرو ۔ہم تمھیں اپنی طاقت دیکھاتے ہیں اور تم اپنی طاقت دیکھا ﺅ ۔دیکھیں کون جیتتا ہے اس کا خیال تھا کہ سادہ سا فقیر میرے آگے کیسے ٹھہرسکتا ہے میں اسے اپنے علم کی بناءپر زیر کرکے یہاں سے بھاگ جانے پر مجبور کردوں گالیکن اسے کیا معلوم کہ اللہ کے فقیروں کے پاس کتنی بڑی روحانی قوت ہوتی ہے کہ جس کے سامنے دنیوی طاقت ہیچ ہوجاتی ہے ۔
آخر اس نے کہا کہ ہماری طاقت دیکھو ،یہ کہہ کر اس نے اپنی زبان میں کچھ پڑھااور ہوا میں اڑ نے لگا ۔اور آہستہ آہستہ اوپر فضا میں بلند ہونا شروع ہو گیا ۔حضرت سید علی ہجویر ی ؒ نے جب یہ دیکھا تو دل میں یہ دعا کی،یا الٰہی !اب میری عزت کا مسئلہ تیرے ہاتھ ہے ۔اس دعا کے بعد آپ نے اپنی جوتیوں کی طرف دیکھا تو وہ فوراًہی ہوا میں بلند ہو کر اس کے سر پر پڑنے لگیں ۔اوروہ مزید اوپر جانے سے رک گیا اور جوتے پڑنے سے آہستہ آہستہ نیچے زمین کی طرف آنے لگا ۔آخر تھوڑی دیر کے بعد وہ زمین پر آگیا ۔اس کے جادو نے اس کاساتھ نہ دیا اور وہ اپنی برتری منانے میں ناکام ہوگیا غرضیکہ حق کے سامنے باطل کی کوئی پیش نہ گئی ۔
مگر اس کی ہار کیا تھی وہ تو اصل میں جیت گیا ۔فوراًاس کا ضمیر بیدار ہوا کہ میں نے جو کچھ آج تک کیا ہے اس کی کچھ حقیقت نہیں ۔اللہ کے بندے آخر اللہ کے بندے ہی ہیں ،جہاں تھوڑی دیر پہلے اس کے دل میں بے شمار خداوﺅں کو پوجنے کا نظریہ تھا وہ تبدیل ہو گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ حضرت علی ہجویر ی ؒ کا خدائے واحد ہی سچا ہے ۔وہ زبان جس پر جادو کا ورد تھا اس پر اللہ تعالیٰ کی صداقت بو ل اُ ٹھی ۔
آخر وہ حضرت علی ہجویری ؒ کے قدمو ں میں گر گیا اور عرض کی کہ حضرت !کہ مجھے بھی راہ دکھلا دیجیئے جس پر آپ گامزن ہیں ۔چنانچہ کلمہ طیبہ پڑھ کر آپ کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا ۔کیسی اللہ کی شان ہے کہ سرکار کو زیر کرنے آیا تھا ،خو د زیر ہو کر چلا ۔کفر کے لیے آیا تھا صاحب ایما ن ہو گیا ۔یہ ہے حضرت علی ہجویر ی ؒ کی نگاہ کی کرامت کہ اس کرامت سے اس کافر کی کایا پلٹ گئی اور وہ مسلمان ہو کر معزز اور مکرم ہو گیا ۔
تذکرہ نگاروں میں سے کسی نے رائے راجو کو پنجاب کا نائب حاکم لکھا ہے اور کسی سے لاہو ر کا حاکم ،کسی نے رائے راجو کو جو گی لکھا ہے ۔بہر کیف وہ جو کچھ بھی تھا اس کے پاس سفلی علم تھا جس کی بنا ءپر اس نے لوگوں کو گرویدہ کر رکھاتھا ۔مگر اس کا علم اللہ کے ولی کے سامنے ہیچ ہو گیا ۔اور وہ ہر طرح سے بے بس ہو گیا لیکن اس کے بے بس ہونے سے اس کا مقدر جاگ اٹھا اور وہ آپ کے ہاتھ پر بیعت ہو کر راہِ سلوک پر گامزن ہوگیا ۔تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ یہ پہلا ہندو تھا جو حضرت سید علی ہجویری ؒ کے ہا تھ پر مسلما ن ہوا آپ نے اس کا نام عبداللہ رکھا اور اسے شیخ ہندی کے لقب سے نوازا ۔ان کے مفصل حالا ت میں نے الا ولیا ئے لاہور میں ایک مقام پر درج کیے ہیں 

دین حق کی سر بلندی کا واقعہ 

حضرت علی ہجویری ؒ نے لاہور میںجب دینِ حق کی تبلیغ شروع کی تو لاہور میں ہندو دھرم پورے عروج پر تھا ۔ہندو پروہتوں کو اپنے دین پر بڑاناز تھا۔وہ کلمہ حق سننے کو بالکل تیا ر نہ تھے مگر آپ تو توحید و رسالت کی شمع روشن کرنے ہی کے لیے لاہور آئے تھے ۔تو آپ غیر مسلموں میں جہاں کہیں موقع پا تے خدائے واحد پر ایمان لانے کی دعوت دیتے اگر کوئی آپ کے پاس چل کر آتا تو اسے بھی توحید و رسالت کا درس سناتے ۔ایمان لانے کی طرف مائل کرتے اور اس کے صاحب ایمان ہونے کی دعا کرتے ۔اللہ کے فضل و کرم سے آہستہ آہستہ لوگ آپ کی دعوت حق کی طرف مائل ہونا شروع ہو گئے ۔کئی لوگ مشرف بہ اسلام ہوگئے ۔غرضیکہ آپ کے عقیدت مندوں میں دن بدن اضافہ ہونے لگا اور آپ کی شہرت پورے لاہو ر میں پھیل گئی کہ اللہ کا ایک ولی لاہور میں شہر کے غر ب رویہ رہتا ہے جو دین اسلا م کی تبلیغ کرتاہے ۔
آخر آپ کی تبلیغی سر گرمیوں کی اطلا ع لاہور کے حا کم کو بھی ہوگئی ۔جب اسے آپ کی توحید و رسالت کا علم ہوا تو وہ بھی آگ بگولہ ہوا اور انتقامی آگ میں بھڑ ک اٹھا اس نے اپنے سپاہیوں کو بلوایا اور کہا کہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ ہمارے شہر میں ایک مسلما ن آکر اپنا دین پھیلا رہا ہے اور تم سوئے ہوئے ہو ۔فوراً اس مسلمان کے تبلیغ کے سلسلہ کو ختم کیا جائے اور اس فقیر کو شہر سے باہر نکال دیا جائے ۔
رات ہوئی تو ہندو سپاہیوں کا ایک دستہ حضرت سید علی ہجویر ی ؒ کی قیا م گاہ پر آگیا آتے ہی انھوں نے صورتحال کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اللہ کا ایک دوست ایک جونپڑی کے اندر اللہ کی یاد میں بیٹھا ہو اہے ۔ذکر الہٰی جاری ہے ۔انھوں نے کہا کہ ہمیں لاہور کے حاکم نے بھیجا ہے کہ آ پ کو یہاں سے نکال دیں ۔کیونکہ آپ کی تبلیغ سے ہندو دھر م کو بہت نقصان ہورہا ہے ۔ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارا مذہب ختم ہوجائے اور دین اسلام چھا جائے ۔
آپ نے فرمایا کہ میں تو اللہ کی توحید کا پیغام آپ لوگوں تک پہنچانے آیا ہوں تاکہ غیر مسلموں کی عاقبت درست ہو جائے ۔اور وہ دین حق پر ایمان لے آئیں انھوں نے آپ کی باتیں سن کر کہا کہ ہم نہیں جانتے ۔ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ آپ یہاں سے کوچ کر جائیں اور کہیں اور چلے جائیں ۔آپ نے کہا کہ میں تو یہاں اللہ کی رضا اور اسی کے حکم سے آیا ہوں ۔اب جو بھی میر ے ساتھ ہو ،اللہ میر ا حامی و ناصر ہے آخر حاکم کے بھیجے ہوئے سپاہی سختی پر اتر آئے اور انھوں نے آپ کی جونپڑی کو آگ لگانے کی کوشش کی مگر اسے آگ نہ لگی ۔آخر کار ناچار ہوکر سوچنے لگے کہ یہ کوئی اللہ کا فقیر ہے ۔ہم خواہ مخواہ اس سے زیادتی کرکے اللہ کی ناراضگی کو مول نہ لیں ۔کہیں ہمارا کوئی نقصان نہ ہوجائے واپس لوٹ کرحاکم کو سارا واقعہ سنا دیںگے کہ وہاں ہمارا کوئی بس نہیں چلتا ۔آخر وہ واپس لوٹ گئے ۔اگلے روز انھوں نے اپنی کاروائی کا سارا قصہ حاکم کو بتا دیا ۔اس نے بات سن کر اپنے سپاہیوں کو ڈانٹا اور کہا کہ تمھیں چاہیے تھا کہ اس فقیر کو ضرور کسی نہ کسی طریقے سے شہر سے نکا ل باہر پھینکتے ۔
کرنا خد ا کا ایسا ہوا کہ کسی وجہ سے حاکم لاہور کے محل میں آگ لگ گئی اور وہ قابو سے باہر ہوگئی اور بجھنے پر نہ آرہی تھی کہ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات اٹھی کہ کل رات میں اس فقیر کی جونپڑی کو جلوانے لگا تھا ، شاید اسی وجہ سے وہی سزا مجھے مل گئی اللہ کے اٹھا ئے ہوئے اس خوف سے اس کا دل بیدار ہوگیا اور وہ خود چل کر حضرت سید علی ہجویر یؒ کی قیام گاہ پر آیا اور معافی کا طلب گار ہوا آپ نے اس سے درگزر فرمایا اور اسے معاف کر دیا ،جونہی اسے اللہ کے ولی کامل سے معافی ملی تو اس کے محل کی آگ خود بخود ٹھنڈی ہو گئی ۔آخر کا ر وہ آپ کی روحانی طاقت سے متاثر ہو کر حلقہ بگوشِ اسلام ہو گیا ۔
یہ کرامت میں نے کتا ب ” مقاماتِ اولیا ء“ سے لی ہے مگر اس کا بھی تذکر وں میں کہیں ذکر نہیں ۔اللہ بہتر جاننے والا ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے ۔

محراب سے کعبہ نظر آنے کا واقعہ 

اللہ کے بیشتر اولیاءجہاں کہیں بھی گئے وہا ں سب سے پہلے انھوں نے اللہ کا گھر یعنی مسجد ہی بنائی ۔کیو نکہ مسجد اسلامی معاشرت کی بنیا د ہے اس لیے حضرت سید علی ہجویری ؒ کو جب لاہور میں آئے ہوئے کچھ عرصہ گزر گیا تو آپ نے سوچا کہ اب یہاں مسجد کی بنیا د رکھی جائے تاکہ جو لوگ مسلمان ہوئے ہیں انھیں اللہ کی عبادت کے طریقے سکھلائے جائیں اور نما ز کی عملی تعلیم سے آراستہ کیا جائے ۔اس ضر ورت کے پیش نظر آپ نے اپنے عقیدت مندوں میں مسجد کی خواہش کا اظہا ر کیا ۔چند ساتھیوں نے مکمل تعاون کا اظہا ر کیا ۔چنانچہ ایک روز مسجد کا تعمیراتی سا ما ن اکٹھا کر کے مسجد کی بنیا د رکھ دی ۔آہستہ آہستہ مسجد کی تعمیر شروع ہو گئی ۔آخر کچھ دنوں کے بعد مسجد تعمیر ہو کر مکمل ہوگئی ۔ادھر اُد ھر کے لوگو ں نے آکر دیکھا کہ مسجد تو بن گئی ہے لیکن اس کا محراب کعبتہ اللہ کی سمت یعنی مغرب کی طرف بالکل سید ھا نہیں ہے بلکہ تھوڑاس ٹیڑھا ہے آپ نے لوگوں کا اعتراض سن لیا ۔جب مسجد ہر لحاظ سے مکمل ہوگئی تو آپ نے لوگوں کو مدعو کیا کہ آﺅ سارے اس مسجد میں نماز ادا کریں ۔
آخر نماز کا وقت ہوا ،اذان ہوئی ۔اس کے بعد نماز کی جماعت کھڑ ی ہوئی آپ نے خود امامت فرمائی ۔جب لوگ نماز سے فارغ ہوگئے تو آ پ نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں یہ مسجد قبلہ رخ نہیں ہے ۔آﺅ دیکھو کہ قبلہ کس طرف ہے جو انھوں نے نظر اٹھاکر دیکھا تو مسجد سے کعبة اللہ نظر آنے لگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولی کو مکرم رکھنے کے لیے مسجد سے لے کر کعبةاللہ تک تمام حجابات کو درمیان سے اٹھا دیا۔ آپ نے کہا کہ دیکھا کہ جس مسجد سے براہِ راست کعبہ نظر آرہا ہے کیا وہ ٹیڑھی ہے ۔سب لوگ اس با ت پر حیران ہو گئے کہ یہ اللہ کا کتنا عظیم اور باکمال ولی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اعتراض کو کس شان سے دور فرمادیا ہے ۔تمام اعتراض کرنے والے بڑے نادم ہوئے کہ ہم نے حضرت سید علی ہجویر ی ؒ کی تعمیر کردہ مسجد پر اعتراض کیو ں کیا۔دل ہی دل میں بڑی شرمندگی کے ساتھ آپ سے معذرت کی ۔آپ نے فرمایا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔آپ کی یہ کرامت اس دور میں کافی مشہور ہوئی ۔(سیفیئةالاولیا ئ) 

                     لاہور کے ایک سوداگر کا واقعہ 

حضرت نے کشف الاسرار میں ایک جگہ دنیا کوسراسر درد الم کی جگہ قرار دیا ہے عورت کو بے وفا بتایا ہے ۔لاڈلی اولاد کے نقصان بتائے ہیں او ر صبر کرنے اور قسمت سے زیادہ حاصل کر نے کے لیے دوڑ دھوپ کرنے پر افسوس ظاہر کیا ہے اور اس کی مثال میں لاہور کا یہ چشم دید ہ واقعہ لکھا ہے :۔
فرماتے ہیں کہ لاہور میں ایک سوداگر تھا ،کریم اللہ نام تھا ۔مال اور دولت اس کے پاس باافراط تھا۔اسکے گھر بیٹا پیدا ہوا ۔امام بخش نام رکھا ۔بڑے جشن کیے بڑی خوشی منائی ۔اسی دن خبرآئی کہ جس کارواں میں اس کا مال تھا اس پر ڈاکہ پڑا ہے تھوڑے عرصہ کے بعد ایک اور کارواں کے لٹنے کیخبر آئی او ر لڑکا بھی ناز اور نعمت سے پر ورش پا رہا تھا ۔غرض بے چارہ تنگ ہو کرخود باہرنکلا مگر نا کا م واپس آیا ۔لڑکے کو مکتب میں بیٹھایا ۔جب صاحبزادہ نے استاد کی داڑھی کھینچنا چاہی تو اس نے بھی جواب دے دیا ۔یہاں تک کہ وہ لڑکا آوارہ ہوگیا ۔گھر کی چیزیں بکنے لگیں ۔گھر کی چکی سوداگر کی عورت نے چار درہم میں بیچی اور آخر خاوند سے بے وفا ہوگئی اور یکے بعد دیگرے تینوں درد نا ک موت سے مر گئے ۔
آخر میں فرماتے ہیں کہ تقدیر الٰہی ایسی ہی تھی ۔کسی کو دم مارنے کی طاقت نہیں کہ وہ مالک ہے اور ہم اس کے بند ے ہیں ۔

بھٹی قوم کے قبول اسلام کا واقعہ 

اس دور میں بھاٹی کے علاقے میںبیشتر آبا دی ہندوﺅں کی تھی جو بھٹی کہلا تے تھے اور بھاٹی کی وجہ تسمیہ بھی یہی تھی ۔مسلمان عقیدت مند جو داتا صاحب کی زیارت اور رشد و ہدایت کے لیے آتے تھے ان کا اکثر گزر بھاٹی سے ہی ہو تا تھا ۔چونکہ داتا صاحب کامسکن بھاٹی کے باہر تھا اس لیے ازراہِ عقیدت لوگوں نے بھاٹی کا نام بدل کر آپ کی نام پر ہجویری محلہ رکھ دیا ۔
بھٹی کہلوانے والے ہندوﺅں کو یہ بات ناگوار محسوس ہوئی ۔انھوں نے جے سنگھ کی قیادت میں ایک وفدحضرت سید علی ہجویری ؒ کے پاس بھیجا،جس نے انھیںاپنے جذبات سے آگاہ کیا ۔آپ نے ہندوﺅں کی شکایت کو بڑے ٹھنڈے دل سے سنا اور فیصلہ صادر فرمایا کہ اس کانام بھاٹی ہی رہے گا ۔
ظاہر ی نمود و نمائش اور خود ستائش کو جب آپ نے ٹھوکر مار دی اور یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ظاہری زیب و زینت گوارانہیں ہوتی اور نہ ہی وہ دنیاوی زیب وزینت کو پسند کرتے ہیںبلکہ ہمیشہ اپنے صفائے بدن کی طرف دھیان دیتے ہیں آپ کے اس فیصلہ سے ہندوبھٹی اور انکے وفد کا لیڈر اتنے متاثر ہوئے کہ انھوں نے آپ کے ہاتھوں پر اسلام قبول کر لیا ۔اس دن سے سب بھٹی مسلمان کہلانے لگے اور یہ وہ ہی بھٹی مسلمان ہیں جوجذبہ اسلام سے آج تک سر شار ہیں ۔اس واقعہ کی تصدیق دوسرے مورخین نے بھی کیا ہے ۔جن میں مسعود الحسن بھی شامل ہیں ۔ان کی کتاب ”حضرت داتا گنج بخش اے سپر چوئل بایو گرافی “میں یہ واقعہ بھی درج ہے ۔

آپ ؒ سے ملک ایاز کی عقیدت مندی کا واقعہ 

سلطان محمود غزنوی نے ۴۱۴ھ میں جب لاہور پر حملہ کیا تو راجہ جے پال کا بیٹا راجہ اننگ پال تھوڑے ہی مقابلہ کے بعد دُم دبا کر بھاگ نکلااور لاہور شہر پر محمود غزنوی کا قبضہ ہوگیا۔محمد لطیف مرحوم نے تاریخ لاہور میں لکھا ہے کہ جب محمود غزنوی نے ۴۱۴ ھ میں لاہور پر قبضہ کر لیا تو اپنے محبوب ملازم ملک ایاز کو اس کے اصرار پر ایک محافظ دستہ فوج کے ہمراہ لاہور میںچھوڑدیا ۔یہاں یہ ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ ملک ایازکو بزرگانِ دین نے سلطان محمود غزنوی کی ذاتی حفاظت کے لیے مامور کیا ہوا تھا روحانی عالم میں یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ ایک جری انسان غزنی سے اٹھے گا اور ہندوستان میں کفار کے بت پاش پاش کرکے مسلمانو ں کی عظمت اور شجاعت کا ایسا سکہ جمائے گا کہ یہاں تھوڑے ہی عرصہ میں توحید اور رسالت کا بول بالا ہوجائے گا اس پس منظرمیں اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روشن ہوجا تی ہے کہ جری اور بہادر لشکر میں کچھ ایسے بھی انسان ہوتے تھے جو صر ف خدا اور اس کے رسول کی جانب راغب ہوتے تھے ۔ملک ایاز کانام بھی ایسے بزرگانِ دین میں شمارہوتا ہے ۔محمود غزنوی کو اس پیکر وفا کے ساتھ دلی لگاﺅ تھا ۔جب محمود غزنوی نے اپنا کام مکمل کر لیا تو ملک ایا ز نے کہا کہ میں غزنی نہیں جاﺅ گا ۔کہتے ہیں کہ زندگی میں پہلی بار محمود غزنو ی نے یہ انکار ایاز کی زبان سے سنا ۔غلام کے آگے آقا نے سر تسلیم خم کر دیا اور محمود غزنوی نے اسے لاہور چھوڑدیا ۔
 کافی سے زیادہ سونا ، چاندی ، ہیرے اور جواہیرات اس کے سپرد کرکے غزنی کا مسافر رخصت ہو گیا ۔اسے کیا علم تھا کہ ایاز کا یہ انکار ایک نئے قدم کا اقرار تھا اور یہ نیاقد م راہِ حق کی جانب تھا ایاز نے اب صحبت فقر اختیار کر لی ۔
سلطان محمود غزنوی کے بعداس کا بیٹا سلطان مسعود بنا ۔مگر چند ہی عرصہ کے بعد راجے جے پال کے بیٹے راجے اننگ پال نے ایک زبر دست حملہ کر کے مسعو د سے حکمرانی چھین لی ۔اور جوشِ انتقام میں اس راجہ نے لاہور میں مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا اور تاریخ گواہ ہے کہ ایک ہی محلے سے دو ہزار لاشیں اٹھا ئی گئیں ۔اور لاہو رخالی ہوگیا ۔اس دور میں غزنی کا ایک نیا مسافر لاہور میں وارد ہوا ۔فرق یہ تھا کہ غزنی کا پہلا مسافر محمود غزنوی جذئبہ شجاعت سے لبریز تھا اور نیا مسافر روحانیت اور خدا کی وحد انیت کا علم بردار ۔غزنی کا یہ نیا مسافر حضرت مخدوم علی ہجویری ؒ تھا ۔
ملک ایاز کو خواب میں حکم ملا کہ وہ فوری طور پر اب غزنی کے نئے مسافر کا غلام ہوجائے حضرت داتا گنج بخش ؒ کے پاس حاضری دی اور بیعت کے بعد آپ کے ہاتھوں فقر وغنا کا جامہ پہن کر یہ فیصلہ کرلیا کہ اب وہ لاہور کو دوبار ہ آباد کرے گا ۔وہ مسلمان جو لاہور چھوڑ گئے تھے ملک ایاز کی قیادت میں جو ق در جوق واپس آنا شروع ہو گئے۔دیکھتے ہی دیکھتے لا ہو ردوبارہ آباد ہونا شروع ہو گیا اور اللہ اکبر کی تکبیریں گلی گلی کوچے کوچے بلند ہونا شروع ہو گئیں ۔محمود کے غلام نے اپنی دولت اور مال و متاع تما م حاجت مندوں میں تقسیم کر دیا اور خود گوشہ نشین ہو گیا ۔ایاز پر یہ عیاں ہو گیا کہ اس کا غزنی جانے کاانکا راور لاہور رہنے پر اصرار ایک حکم خداوندی تھا ۔آخر ۰۵۴ھ میں ملک ایاز نے وفات پائی ۔لاکھو ں فرزندانِ توحید نے نماز جنازہ میںشرکت کی اور اسلام کے عظیم فرزند کو لاہور میں چوک رنگ محل کے قریب سپر دخاک کر دیا لاہور شہر کے عین دل میں واقعہ یہ مزار اس غلام کی عظمت اوربلند کردار کی ایک ناقابل فراموش یاد گار ہے ۔ (کشف کرامات ِ حضرت داتا گنج بخش 

اخلاق حمیدہ

اخلاق حمیدہ 

اللہ والے ، اخلا ق حسنہ کا منہ بولتا شاہکار ہوتے ہیں ۔حضرت سید علی ہجویری ؒ اچھے اخلا ق کی جیتی جاگتی تصویر تھے ۔آپ نے اپنی زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ حسنہ پر عمل پیر ا ہونے کا مصمم ارادہ کر رکھا تھا اس لیے آپ نے ہر حال میں ہر کام میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی اتباع کی ۔آپ میں اخلاق حمیدہ کے وہ تمام اوصاف موجو د تھے جو ایک باشرع ،متقی اور پر ہیز گار میں ہونے چاہےں اور آپ کی اخلاقی خوبیوں کی بناءپر آپ کے پا س ہر آنے والا آپ کی ذات ِ اقدس سے متاثر ہوتا اور آپ کی نصحیت کو قبو ل کر لیتا ،یہ آپ کے اچھے اخلاق ہی تھے جنھوں نے لاہور میں آپ کے آتے ہی آپ کو شہر ت کے دوام سے بہت جلد اہل لاہور میں متعارف کروادیا۔یہ آپ کے اخلاق حسنہ ہی تھے کہ جن سے بیشمار ہندو متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔آپ کے اخلا ق حمیدہ کے چند پہلو حسب ذیل ہیں ۔

اندازگفتگو 

آپ کا انداز گفتگو بڑا شیریں تھا ۔آپ ہر کسی سے اچھی بات کہتے ،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اچھی بات کہنے کا حکم دیا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے مطابق آپ کی گفتگو نیک اور اچھی ہوتی ۔آپ کے سمجھانے کا انداز بڑا ہی ہمدردانہ تھا اس لیے آپ سے کلام کرنے والے کے دل پر آپ کی باتوں کا اثر ہوتا اور وہ آپ کے گر ویدہ ہو جاتا اور دین اسلام قبول کرنے پر فوراًرضا مندی کا اظہار کرتا ۔
یہ آپ کی شیریں کلامی کا اعجاز تھا کہ آپ کے ۴۳ سالہ قیام کے دوران ہندو مسلمان ہوتے رہے ۔آپ کی باتوں نے اس قوم کے دل مو ہ لیے جواسلام کے بالکل خلاف تھی ۔شروع شروع میں جب آپ نے مسجد بناکر درس دینا شروع کیا تو تذکروں میں لکھا ہے کہ بے پناہ لوگ آپ کے درسوں میں آتے ،توان لوگوں کا درس میں بڑے شوق سے آنا آپ کی خوش کلامی ہی کی وجہ سے تھا ۔
حکایت 
آپ کی ہمدردانہ باتوں کا اندازہ اس حکایت سے ہوتاہے جو انھوں نے کشف المحجوب میںیوں بیان فرمائی ہیں کہ ایک دفعہ مجھے ماوراءالنہر کے ایک ملامتی سے ملنے کا اتفاق ہو ا۔صحبت میں کشادگی اور بساط کی کیفیت پیدا ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ بھائی !ان بیہودہ افعال سے تمھار امقصد کیا ہے ۔اس نے کہا کہ مخلوق کو اپنے سے دور کرنا ۔میں نے کہاکہ مخلوق بے شمار ہے اور تیر ی عمر اور زبان اورمکان محدود ،تو مخلوق سے اپنا دامن نہیں چھوڑا سکے گا لہٰذا بہتر یہ ہے کہ تو اسے چھوڑ دے تاکہ اس تکلف سے بچ جائے ۔

حق گوئی 

حضرت سید علی ہجویری ؒ کے اخلاق حمیدہ کاایک پہلو حق گوئی ہے آپ نے زندگی بھر حق کی بات کہی ۔چونکہ آپ کو قرآن و حدیث پر مکمل عبو رحاصل تھا اس لیے آپ نے ہمیشہ جو با ت بھی کی وہ حق کی بنیا د پر کہی ۔آپ حق بیان کرنے ہی کے لیے لاہور تشریف لائے ۔یہ آپ کی حق گوئی ہی تھی کہ آپ کو کہاں سے کہاں لے آئی ۔اور یہاں آکر غیر مسلموں میں اللہ کی تو حید کو ایسے دلکش انداز میں پیش کیا کہ لوگ حق کی طرف مائل ہو کر مسلمان ہوئے ۔دیار غیر میں آکر ان ہندوﺅں کے سامنے حق کی بات کہنا بڑا مشکل تھا ۔جو صدیوں سے بُتوں کے پجاری تھے اور اپنے دین کے خلاف ایک بات بھی سننے کو تیا ر نہ تھے ۔مگر آپ نے اللہ کے بھروسے پر علی الاعلان انھیں حقیقت سے باخبر کیاکہ تم جن بتوں کو پوجتے ہو یہ خدا نہیں ہیں بلکہ میرا اور تمھارا خد ا وہی ایک معبود بر حق ہے ۔جس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور ہمیں رزق دیتا ہے ۔ہماری زندگی اور موت اسی کے ہاتھ ہے ۔
ہندوﺅں کے دیش میں آکر انھیں جھوٹا قرار دینا ہی کوئی معمولی بات نہ تھی ۔مگر آپ نے ہر قسم کے خطرے سے بالا تر ہو کر حق بات کہی ،یہ کتنی بڑی ہمت اور بلند اخلاقی کی دلیل ہے ۔کشف المحجوب میں لکھا ہے کہ میں علی بن عثما ن الجلابی کہتا ہوں کہ کلام کرنا دو طرح کا ہے اور خاموشی بھی دو طرح کی ہے کلام ایک حق ہوتا ہے ایک باطل ،اورایک خاموشی حصول مقصد پر ہوتی ہے اور دوسری غفلت کی بناءپر ۔گفتگو یا خاموشی کے وقت ہر شخص کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے ۔اگراس کی گفتگو حق پر مبنی ہے تو اس کا کلام خاموشی سے بہتر ہے اور اگر اس کی گفتگو صداقت پر مبنی نہیں تو خاموشی گفتار سے افضل ہے۔اسی طرح خامو ش حصول مقصود یامشاہدہ کی وجہ سے ہے تو کلام سے بہتر اور اگر حجا ب یا غفلت کی وجہ سے ہے توخاموشی سے کلام بہتر افضل ہے ۔اسکے معنٰی میں ایک دنیا حیران و سر گرداں ہے ۔مدعیانِ طریقت کا ایک گرو ہ ہو او ہوس کی بنا پر حقیقت اور معنٰی سے خالی خولی عبارتوں اور الفاظ کا دلدادا ہے اس کا کہنا ہے کہ کلام خاموشی سے بہتر ہے اس طرح جاہلوں کا گروہ جسے راستے کے کنویں کی بھی پہچان نہیں ہے اس کا خیال ہے کہ خاموشی کلام سے بہتر ہے ۔
یہ دونو ں گروہ ایک جیسے ہی ہیں ۔کسی کو بول دیں یا خاموش کرائیں ۔حقیقت وہی ہے جو ہم نے بیان کردی ہے ۔جو بولتا ہے وہ غلط ہوتا ہے یا صحیح اور جس سے گفتگو کرائی جاتی ہے (تائید ایزدی سے )وہ خطا اور خلل سے محفوظ ہوتا ہے ۔چنانچہ شیطان خو د بو لا تو اس نے کہا کہ اَنَا خَی ±ر µ مِّن ±ہُ( میں آدم سے بہتر ہوں ) اس کے نتیجے کے طور پر اس کے ساتھ جو کچھ ہو اوہ سب کو علم ہے ۔آدم علیہ السلام کی زبان حق تعالیٰ نے کھلوائی تو انھوں نے فرمایا رَبَّنَا ظَلَم ±نَا اَن ±فُسَنَا ۔( ا ے ہمارے رب !ہم نے اپنی جا نو پر ظلم کیا ) چنانچہ انھیں برگزیدگی بخشی گئی ۔
اخلاص 
حضرت سید علی ہجویری ؒ کے اخلاق کا پہلو اخلا ص ہے ۔آ پ جو کام بھی کرتے بڑے اخلا ص سے کرتے ۔آپ نے جتنے مجاہدے کیے وہ بڑی خلوص نیت سے کیے اور اپنے کسی عمل میں کبھی ریا کاری کو شامل نہ ہونے دیا اگر آپ نے لاہور میں آکر سب سے پہلے مسجد کی بنیاد اپنے ہاتھ سے رکھی تو اس میں اخلاص نیت یہ ہی تھی کہ یہاں اللہ کی مخلو ق عبادت کے لیے آئے ۔آپ کو مسجد بنانے میں کوئی ذاتی غرض نہ تھی صرف رضائے الہی پیش نظر تھی ۔اس کے علاوہ آپ نے لاہور میں تبلیغ اسلا م کا فریضہ سر انجام دیا تو اس میں اخلاص ہی تھا جس کی بنا پر لوگ آپ کے ہم نوا ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئے ۔
غرضیکہ آپ کے ہر کا م کی بنیاد خلوص تھا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر کام میں کامیابی عطا فرمائی ۔آپ نے عمر کا بیشتر حصہ سیرو سیا حت میں گزارا اور بہت سے مشائخ کر ام سے ملاقا تیں کیں اور ان کی صحبتیں بھی اختیار کیں مگر اللہ تعالیٰ کی زمین پر پھر نے گھومنے کا مقصد صرف ایک ہی تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی طرح راضی ہوجا ئے اللہ کی رضا چونکہ اخلاص نیت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی ،لہٰذا آپ نے جتنی سیر وسیاحت کی ان کی بنیاد میں خلو ص نیت شامل تھی ۔
سخاوت اور فیاضی 
حضرت سید علی ہجویری ؒ بڑے دریا دل اور فیا ض تھے ۔اللہ کی راہ میں جو ہوتا دے دیتے ۔اپنے پاس ہوتے ہوئے کسی کو دینے سے کبھی گریز نہیں کیا اور نہ ہی کبھی سوچا کہ اب اگر اللہ کی راہ میں جو کچھ ہے وہ دے دیا تو پھر مجھے کیسے ملے گا ۔چونکہ اللہ کے ولی دولت جمع کرنے کے حق میں نہیں ہوتے ان کانظریہ ہے کہ مال ملنے پر ضرورت کے مطابق اپنی ضرورت پوری کر لو اور بقیہ کو اللہ کی راہ میں خرچ کر دو اسی نظریے کے پیش نظر آپ خدمت میں جو کچھ آتا اسے بے حساب اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتے ۔اور پھر سب سے بڑی خوبی ہی ہے کہ جسے دیا اسے زندگی بھر کبھی احسان نہ جتلایا اور نہ ہی کسی قسم کی اس کے بدلے میں کسی سے خدمت لینے کی کوشش کی ۔ غرض یہ کہ آپ حد سے بڑھ کر سخی تھے ۔آ پ نے اللہ کی راہ میں سخاوت کرنے کا ذکر کشف المحجوب میں یوں کیا ہے :
حکایت 
آپ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ عراق کے علاقے میں دنیا کی طلب اور اسے خرچ کرنے میں کافی بڑھ گیا اور مجھ پر بہت قرض ہو گیا ۔جس کو کوئی ضرورت ہوتی وہ میرے پاس آجاتا ۔اور میں ان لوگوں کی ضروریا ت کو پورا کرنے میں الجھ کر رہ گیا ۔بزرگان وقت میں سے ایک بزرگ نے مجھے لکھا ، دیکھو بیٹا !اللہ تعالیٰ سے اپنی توجہ ہٹا کر ایسے لوگوں کی دلدادی میں مصروف نہ کرو جو خواہشات میں مشغول ہیں اگر کوئی دل اپنے دل سے زیادہ مرتبے والا پاﺅتو اس کی دلدادی کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ورنہ اس کام سے اپنا ہاتھ ہٹا لو ۔اس لیے کہ خدا کے بندوں کی کفالت خدا کے ذمے ہے اس پر عمل کرنے سے تھوڑے وقت میں میری جان آزاد ہوگئی ۔
اس حکایت سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ سخاوت میں اعتدال سے کام لینا بھی ضروری ہے ورنہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
عفو اوردرگزر
حضرت سید علی ہجویریؒ کے اچھے اخلا ق کا ایک پہلو عفوو درگزربھی ہے ۔راہِ حق میں کئی لوگ اللہ کے بندوں کے دشمن ہوجاتے ہیں ۔بعض اوقات اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ اس کی جان لینے کے درپے ہوجاتے ہیں ۔لہذا جب آپ نے لاہور آکر دین اسلام کی تبلیغ کا سلسلہ جاری کیا تو ابتدا میں کئی لوگ آپ کے دشمن بنے ۔اور آپ کو کسی نہ کسی بہا نے سے اس بات پر مجبور کرتے تھے کہ آپ یہاں دین کی تبلیغ کا کام نہ کریں بلکہ کہیں اور چلے جائیں مگر آپ کو راہ ِ حق کی تبلیغ میں بےشمار لوگو ں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔کئی ہندوپروہتوں نے آپ کی سخت مخالفت کی مگر آپ نے ان سے ہمیشہ درگزر فرمایااور ان کے لیے راہِ ہدایت ملنے کی دعا کی ۔
ایسے ہی جب رائے راجو نے جب آپ کی مخالفت کی تو آپ نے اس سے بھی درگزر فرمایابلکہ اس پر ایسی نظر عنایت کی کہ وہ مشرف بہ اسلام ہوکر آپ کے عقیدت مندوں میں شامل ہو گیا غرضیکہ آپ نے زندگی کے ہر موڑ پر عفواور درگزر سے کام لیا۔
حکایت 
حضرت علی ہجویری ؒ فرماتے ہیں کہ میں اپنے سفر کے دوران کسی بات سے اتنا رنجید خاطر اور زیر بار نہیںہوتا تھا جتنا اس بات سے کہ جاہل خدمت گزار اور کم عقل مقیم مجھے ساتھ لے لیتے اور اس خواجہ کے گھر ،اس دہقان کے گھر لیے پھر تے ۔میرا دل اس سے نفرت کرتا مگر ظاہر سے میں در گزر سے کام لیتا ۔مقیم حضرات جو بے راہ روی میرے ساتھ اختیا ر کرتے رہے ہیں ۔میں نے دل میںعہد کیا تھا کہ اگر کسی وقت میں مقیم ہو گیا تو مسافروں سے یہ سلوک ہرگز نہیں کروں گا، بے ادبوں کی صحبت میں اس کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں کہ ان کے برتاو ¿ میں انسان کو جو چیز اچھی نہ لگے انسان اس سے پرہیز کے قابل ہوجاتا ہے ۔اگر کوئی درویش ہو کر چند دن ٹھہرے اور دینوی ضرورت کی خواہش کرے تو مقیم کے لیے اس کے بغیر چارہ نہیں کہ اس کی ضرروت فوراًپوری کرے اگر یہ مسافر خالی بے ہمت دعویدار ہے تو مقیم کو بے ہمتی کرنا اور اس کی ناممکن ضروریات پوری کرناضروری نہیں ۔اس لیے کہ یہ دنیا چھوڑنے والوں کا راستہ ہے اگر وہ دنیا کا طالب ہے تو بازار میں جاکر خرید وفروخت کرے یا کسی بادشاہ کے ہاں دریوزہ گری کرے ۔اسے دنیا سے آزاد لوگوں سے کیا واسطہ،
بصیرت
حضرت سید علی ہجوریؒ بڑے صاحبِ بصیرت بزرگ ہوئے ہیں ان کی بصیرت ان کی کتا ب سے واضح طور پر عیاں ہے کیونکہ کتاب میں جہاں کہیں اپنی رائے کا اظہار فرمایا اسے پڑھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خصوصی بصیرت سے نوازرکھا تھا۔آپ نے کشف الحجوب میں ایک مقام پر اپنے بصیرت انگیز خیالات کا یوں اظہار فرمایاہے:
آپ فرماتے ہیں کہ اللہ والوں میں سے شیخ بزرگ اور صفاتِ بشریت سے فانی حضرت ابوعبداللہ محمد بن علی الترمذی رحمتہ اللہ بھی ایک ہیں ۔آپ جملہ علوم میں کامل اور پیشواکی حیثیت رکھتے ہیں اور مشائخ محققین میں سے طریقت کے معاملات میں آپ کی بہت سی کتابوں میں آپ کی کرامات ظاہر ہیں ۔میرے نزدیک آپ بڑے باعظمت بزرگ ہیں اور میرا دل پوری طرح آپ کی محبت کاشکار ہوچکا ہے۔
میرے شیخ نے فرمایا کہ محمد ترمذ ی ایک ایسا دُریتیم ہے جس کی مثال نہیں ملتی ۔ علم ظاہر میںآپ کی بہت سی کتب ہیں اور احادیث میں آپ کی اسانید بڑی عالی اور معتبر ہیں ۔آپ نے قرآن کریم کی ایک تفسیر لکھنی شروع کی تھی لیکن عمر نے اس کو مکمل کرنے تک وفانہ کی ۔تاہم جس قدر لکھی گئی وہ بھی اہل ِعلم کے درمیان استفادہ کے قابل سمجھی جاتی ہے۔
 حلم و نرم مزاجی 
حضرت علی ہجویری ؒ بڑے حلم الطبع تھے ۔اگر کسی کو کوئی سمجھانے کی ضرورت پیش آتی تواسے بڑے حلیمانہ ا نداز میں سمجھا تے اور اس کی اصلا ح فرمادیتے کیو نکہ تبلیغ کے سلسلہ میں آپ کو بڑے بڑے سخت مزاج لوگوں سے واسطہ بھی پڑا جن کی دل آزاری والی باتوں پر انسان کو غصہ آجا تا ہے مگر آپ کبھی آپے سے باہر نہ ہوتے اگرکوئی جواباًسخت الفاظ بھی استعما ل کر لیتا تواورآپ ناراض نہ ہوتے ایک دفعہ آپ کا واسطہ ایک سخت گیر ملامتی سے پڑا لیکن آپ نے اسے بڑے اچھے انداز میں ملامت کی حقیقت کے بارے میں سمجھایا ،تاکہ اس کی اصلاح ہوجائے ۔اس واقعہ کو کشف المحجوب میں آپ نے خود ہی یوں بیان کیا ہے ۔
حکایت 
آپ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک دفعہ ایسے شخص سے واسطہ پڑا جو بظاہر خود کو شیخ طریقت ظاہر کرتا تھا اور نازیبا حرکات کر کے یہ تا ثر دیتا کہ اس نے ملامت کی را ہ اختیار کر رکھی ہے ۔حالا نکہ وہ ایسا نہیں تھا ۔
ایک مرتبہ اس نے ایک غیر شرعی حر کت کی اور عذر یہ کیا کہ میں نے ایسا ملامت کی خاطر کیا ہے ۔ایک آدمی کہنے لگا یہ کچھ نہیں ۔اس پر وہ غضب ناک ہو گیا میں نے اسے کہا ارے بھائی!اگر تو اس راہ کا راہی اور اس دعوے میں سچا ہے تو تجھے اس شخص کے انکا ر اور اعتراض پر خوش ہونا چاہیے ۔کیونکہ اس سے تیرے مسلک کی تائید اور تیر ے عقیدے کی تقویت ہوتی ہے ۔پھر یہ غصب و غصہ کس لیے ہے ؟تیر امعاملہ حقیقتاًملامت نہیں بلکہ فریب کاری کے مشابہ ہے ۔اور جو شخص لوگو ں کو کسی صحیح کا م کی دعوت دیتا ہے اس کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دلیل سنت کی تابعداری ہے ۔تم نے تو ظاہر ی فرض ترک کر رکھا ہے اور پھر لوگوں کو دعوت بھی دے رہے ہو تویہ بات دائرہ اسلام میں کیسے آسکتی ہے ۔
آپ نے اسے بڑی نرم مزاجی میں سمجھا یا کہ اگر تم نے ملامت کی راہ اختیا ر کرنی ہے تو پھر اس کا بہتر انداز یہ ہے کہ پہلے زمانے میں ملامت کے لیے کسی برے فعل کا ارتکاب کرنا پڑتا تھا یا خلاف عادت کوئی بات کرنا پڑتی تھی مگراس دور میں اس کی ضرورت نہیں ہے ۔اس زمانے میں اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کو ملامت کریں تو وہ صرف دو رکعت نماز خشو ع و خضوع کے ساتھ ادا کرے یا کامل طور پر دین و شریعت پر کار بند ہوجائے تو ساری مخلوق اسے منافق اور ریا کار کہنے لگے ۔
(کشف المحجوب)
خودداری 
خودداری کا وصف آپ کی طبیعت میں بڑا نمایا ں تھا ۔آپ چونکہ روشن ضمیر تھے اور روشن ضمیر ہمیشہ خودداری سے کام لیتا ہے اس لیے اپنے ذاتی معاملات میں خودداری اور عزت نفس کی پاس داری کے قائل تھے خودرای کا جذبہ اطاعت الہی سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ آ پ اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں میں سے تھے اور ہر کام میں اس کی اطاعت کرتے تھے اس لیے آپ میں خودداری کا وصف بھی اللہ تعالےٰ نے پید ا کر رکھا تھا ۔خود دار انسان کبھی کسی کے آگے سوال نہیں کرتا اور نہ ہی کبھی دنیا داروں کے ہاں کچھ لینے کے لیے جا تا ہے ۔آپ کی ضروریا ت اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے خود پوری فرمائیں ۔اس لیے آ پ کو کبھی کسی دنیا دار کے پاس جانے کی ضرورت محسو س نہ ہوئی۔
اس کے بارے میں حضرت سید علی ہجویریؒ نے کشف المحجوب میں فرمایا ہے کہ درویش کو چاہئے کہ کسی دنیا دار کے بلانے پر نہ جائے ۔اس کی دعوت قبو ل نہ کرے اس سے کوئی چیز طلب نہ کرے ۔یہ اہل طریقت کی توہین ہے اس لیے کہ دنیا دار درویشوں کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ۔
خلاصہ یہ کہ انسان دنیاوی سازوسامان کی کثرت سے دنیا دار نہیں بن جاتا او ر اس کی قلت سے درویش نہیں ہوجاتا ۔جو شخص فقر کو غنا پر ترجیح دیتا ہے وہ دنیا دار نہیں ہے اگر چہ بادشاہ کیوں نہ ہواورجو فقر کی فضلیت کا منکر ہے وہ دنیا دار ہے ۔اگرچہ وہ (مفلسی کی دجہ سے )مجبور کیوں نہ ہو۔دعوت میں جائے تو کسی چیز کے کھانے یا نہ کھانے پر تکلف نہ کرے ۔وقت پر جو کچھ دستیاب ہو اس پر اکتفا کرے ۔اگر صاحب دعو ت (ہم جنس ،بے تکلف )ہو تو شادی شدہ شخص کھانا گھر پر لے جا سکتا ہے اگر وہ نا محرم ہوتو اس کے گھر جانا ہی صحیح نہیں ۔کسی بھی حا ل میں (بچا ہوا ) کھانا گھر لے جانا پسندیدہ بات نہیں ۔(کشف المحجوب
تواضع وانکساری
حضرت سید علی ہجویریؒ بڑ ے منکر المزاج تھے آپ کی طبیعت فطر ی طور پر متواضع تھی ۔ آپ کے پاس آنے میں کسی پر کوئی پابندی نہ تھی ۔آپ کے پاس جو بھی آتا اس کے ساتھ بڑا عاجزانہ رویہ اختیار کرتے ۔اپنا تمام کام خود کرتے تھے ۔اپنے کپڑوں میں پیوند خود لگاتے ۔عاجزی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اس لیے اولیاءاللہ میں بھی یہ وصف بڑا نمایا ں ہوتا ہے بلکہ عاجزی ہی سے وہ پہچانے جاتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ۔
حضرت سید علی ہجویریؒ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں میں سے تھے اس لیے ان کے مزاج میں بھی عاجزی انتہا درجے کی تھی ۔آپ نے چلنے پھرنے کے آداب میں عاجز ی کے بارے میں یوں اظہار خیال فرمایا ہے :
درویش کو چاہئے کہ بیداری کے عالم میں مراقبہ کی شکل میں سر جھکا کر چلے اپنے سامنے کے سوا ادھر اُدھر نہ دیکھے ۔اگر کوئی شخص سامنے آجائے تو اپنے آپ کو اس سے بچانے کے لیے کپڑے نہ سمیٹے ۔کیونکہ تما م مسلمان اور ان کے کپڑے پاک ہیں یہ بات خود بینی اور رعونت پر دلالت کرتی ہے ۔البتہ سامنے آجانے والا شخص کافر ہے اور اس کے جسم پر نجاست ظاہر نظر آرہی ہے تو اپنے آپ کو اس سے بچانا جائزہے جماعت کے ساتھ چل رہا ہوتو آگے بڑھ کر چلنے کی کوشش نہ کرے ۔اس لیے کہ زیادتی کی خواہش تکبر کی نشانی ہے اسی طرح پیچھے پیچھے بھی نہ چلے اس میں تواضع کی زیادتی کا مظاہر ہ ہے اور تواضع کا احساس خود تکبر ہے ۔دن کے وقت چپل اور جوتے نجاست سے پاک رکھے تا کہ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے رات کے وقت کپڑوں کو نجاست سے پاک رکھے۔اگر کسی جماعت یا ایک درویش کے ساتھ ہم سفر ہو تو راستہ میں کسی اور کے ساتھ بات کرنے کے لیے نہ ٹھہر ے ۔اپنے ساتھیوں کو انتظار نہ کرائے بہت زیادہ آہستہ بھی نہ چلے کہ یہ متکبر لوگوں کی چال ہے زمین پر پورا قدم رکھے ۔
الغرض طالب حق کی چال ایسی ہوکہ اگر کوئی اس سے پوچھے کہ کہاں جا رہے ہو؟تو وہ یقین سے کہہ سکے ۔”اَنِّی ± ذَھَبَ اِلٰی رَبِّی ± “اگر اس کی چال ایسی نہیںہے تو یہ چلنا درویش کے لیے وبال ہے اس لیے کہ صحیح قدم ،دل کی کیفیت کی صحیح ہونے کے آئینہ دار ہوتے ہیں ۔جس کے خیا لا ت حق پر مرکوزہیں اس کے قدم خیا لات کے تابع ہوں گے ۔
ایثار 
آپ کے ایثار کے بارے میں سوانح حیات حضرت داتا گنج بخش میں لکھا ہے کہ آپ کوئی ایسی بات نہیں کرتے تھے جس کے وہ خود عامل نہیں ہوتے تھے ۔ایثار پر جو ان کے خیالات ہیں وہ آپ نے کھل کر کشف المحجوب میں بیان کردیے ہیں ۔وہ خود بھی ایثار کے پابند تھے ۔ابتدائے عمر میں انھوں نے اپنے نفس کو راحت وآرام سے ہٹا کر حصول علم کی طرف متوجہ کیا ۔پھر جنگلوں ،بیابانوں ،شہروں اور مختلف دریا و امصار میں تجربہ ،علم اور بزرگان دین کی زیارت کے لیے پھرتے رہے تا کہ ان تجربوں اور سیاحتوں اور تحصیل علم سے جو کچھ حاصل ہوا اس سے خلق خو دفیض پہنچایا جائے ۔شادی دو دفعہ ہوئی اور دونوں دفعہ والدین کے اصرار پر ہوئی ۔تیسری دفعہ بھی آپ شادی کرسکتے تھے لیکن منعقد ہونے سے چونکہ لوگوں کو فیض پہنچانے کا زیادہ موقع نہ مل سکتا تھا اس لیے اس طر ف توجہ ہی نہیں کی ۔اس کے علاوہ محض اشاعت اسلام اور کفر کی تاریکی کو دور کرنے اور نیکی و اخلاق حسنہ کا بیج بونے اور فسق و فجور کو نیست و نا بود کر نے کے لیے غزنی سے لاہور میںاس زمانے میں آئے جب راستے موجودہ زمانے کی نسبت سخت تکلیف دہ اور زیادہ پر خطر ااور طویل تھے ۔
لاہور آکر پہلے لڑکوں کو پڑھا نا شروع کیا مگر جب اس میں خود نمائی اور حکومت کی بُو پائی تو اس سلسلہ کو ترک کر دیا ۔اور عوام الناس کی خدمت کرنے لگے ۔جس سے آپ کا روحانی فیض پھیلنے لگا ۔اوریہ آپ ہی کے فیو ض و برکات کانتیجہ ہے کہ پنجاب کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد دوسر ی اقوام کے بالمقابل کہیں زیادہ ہے ۔
کشف الاسرار میں آپ نے فرمایاہے کہ اے غافل !دیکھ یہ میں اور خودی چھوڑدے مردراہ بن اور دوسرے کا حق نہ مار ۔دولت دنیا کو عذاب سمجھ اور اسے غریبوں میں لوٹا دے اگر نہ لٹایا تو قبر میں کیڑے بن کر تجھے کھائے گی اور لٹادیا تو تیری دوست بن جائے گی ۔تیرے ہا تھ پاو ¿ں تیرے دشمن ہیں ۔جب تُو مرجائے گا تو تیرے پاو ¿ں ،آنکھیں ،ہاتھ گواہی دیں گے بُری جگہ گئے تھے بُری نگا ہ ڈالی تھی ۔ دوسرے کی چیز اٹھائی تھی ۔پس کسی کی چیز کی خواہش نہ کر ۔گناہوں پر دن رات توبہ کر استا د کے حق کا خیا ل رکھ ۔مخلوقِ خدا پر رحم کر۔لقمئہ حرام مت کھا ۔بے عزتی کی جگہ قدم نہ رکھ اور عزت کرنے والے کے پاس بیٹھ۔
فرض شناسی
 حضرت سید علی ہجویری ؒ بڑے فرض شناس تھے ۔ہر ایک کے حقوق کا خیال رکھتے تھے ۔جس کا جتنا حق ہوتا اس کی حق تلفی نہ ہونے دیتے ۔خاص کر آپ اپنے پاس بیٹھنے والے کی ضرورت کا خاص خیال کرتے ۔ اور اپنی صحبت میں آنے والوں کو بڑا روحانی فیض پہنچایا ۔
آداب ِصحبت میں آپ نے اس بات کو بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے صحبت میںدوسروں کو فائدہ پہنچانے کی شرط یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کا صحیح درجہ دے ۔ بڑوں کی تعظیم کرے ،اپنے جلیسوں سے خوش دلی اور بچوں سے شفقت سے ساتھ پیش آئے ۔بڑوں کو والدین کا درجہ دے ،ہم عمروں کو بھائی سمجھے اور بچوں کے ساتھ اولاد کا برتاو ¿ کرے ۔ کینہ سے بیزاری اور حسدسے پرہیز کرے ،عداوت سے بچے نصیحت کرنے میںکسی سے کوتاہی نہ کرے ۔صحبت میں ایک دوسرے کی غیبت اور خیانت نامناسب ہے اسی طرح قول و فعل میں ایک دوسرے کی تر دید بھی صیحح نہیں ۔چونکہ صحبت کا آغاز اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتا ہے اس لیے بندے کے کسی قول اور فعل پر صحبت منقطع نہ کر ے۔
میں شیخ المشائخ ابوالقاسم گرگانی ؒ سے پوچھا کہ صحبت کی شرط کیا ہے ؟آپ نے فرمایا صحبت میں اپنے حصے (حق )کو طلب کرنے لگ جاتا ہے ۔حصہ طلب کرنے والے کے لیے صحبت سے تنہائی بہتر ہے ۔اپنے حصے سے دستبردار ہوگا تو اپنے ساتھی اور ہم نشین کے حصے کی حفاظت کرسکے گا ۔اور صحبت کا اہل ثابت ہوگا۔
ادب کی پاسداری 
آپ روزمرہ کی زندگی میں ادب کو ملحوظ خاطر رکھنے کا بڑی توجہ سے اہتمام فرماتے اور اسی بات کی آپ نے اپنی کتاب کشف المحجوب میںہر خاص وعام کو تاکید فرمائی ہے کہ ادب کا خیال ضرور کرو کیونکہ اس کے بغیر کچھ مقصد حاصل نہیں ہوتا۔آپ نے فرمایا ہے کہ دنیا کا کوئی کام حُسنِ ادب کے بغیر پایہ ¿ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔ادب لوگوں میں مروت کی پاسدار ی ،دین میں اتباع ِسُنت اور محبت میں احترام کی حفاظت کا نام ہے ۔یہ تینوں باتیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں اس لیے کہ جس میں مروّت نہ ہوگی وہ سنت کا پیروکار نہ ہوگا اور جس میںاتباعِ سنت نہ ہوگی اس میں احترام کی پاسداری نہ ہوگی ۔معاملات میں حفظ ادب دل میں مطلوب کی تعظیم سے حاصل ہوتاہے اللہ تعالےٰ اور اس کی آیا ت کی تعظیم تقوٰی سے حاصل ہے جو شخص بے ادبی سے اللہ تعالیٰ کی آیات اور نشانیوں کی تعظیم پامال کرتاہے اسے طریقت کی منزل میں کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔طالب ِراہ سکرو غلبہ کے ہر حال میں حفظِ آدب کا پاپندہوتا ہے اس لیے ادب ان کی عادت میں شامل ہوجاتا ہے اور عادت طبیعت کی مانند ہوجاتی ہے اور کسی بھی جاندار سے تاحین ِحیات طبعی خواص کا جداہونا ممکن نہیں ۔جب تک طالبان ِراہ کا وجود اپنی جگہ پر موجود رہے گا وہ تکلف سے خواہ بلاتکلف ہر حال میں ادب کی رعایت ملحوظ رکھتے ہیں ۔صحو کی حالت میں وہ کوشش سے آداب کی حفاظت کرتے ہیں جبکہ عالمِ سکر میں اللہ تعالیٰ ان کو ادب پر قائم رکھتا ہے ۔ خیال رہے کہ وہ ولی اللہ کسی حال میں بھی ادب کا تارک نہیں ہوتا اس لیے کہ محبت ادب سے پیدا ہوتی ہے اور بہتر ادب کی نشانی ہے اللہ تعالیٰ جسے کرامت عطا فرماتا ہے نشانی کے طور پر اسے آداب ِدین کی پاسداری کی توفیق عطا کرتا ہے۔

Monday, December 1, 2014

خصائلِ و عادات لباس خوراک

خصائلِ و عادات 

اللہ والوں کی عادتیں بڑی بے نظیر ہوتی ہیں ان کا ظاہر اور باطن چونکہ یکساں ہوتا ہے اس لیے ان کے خصائل میں سادگی ہوتی ہے وہ فطرت کے محرم راز ہوتے ہیں اس لیے ان کی عادات اہل ِدنیا کے لیے مشعل ِراہ ہیں ۔ان کی عادتوں سے محبت اور انسانی خدمت کے چشمے پھُوٹتے ہیں ۔ان کی باتیں دکھی انسانیت کا مداواہیں ۔ان کی ادائیں اللہ کی محبت ،اور عشقِ مصطفٰے میں ڈوبی ہوتی ہیں ۔اس لیے لوگوں کے دلوں کو روشن کرتی ہیں ۔حضرت سید علی ہجویریؒ کی عادات ِمبارکہ کی مکمل تفصیل تو نہیں ملتی البتہ جو ملتا ہے وہ پیش ِخدمت ہے :

لباس 

جسم ڈھانپنے کے لیے حضرت سید علی ہجویری ؒ کو کسی مخصوص صوفیاءنہ لباس کا شوق نہ تھا ۔آپ کے زمانے میں صوفیاءمخصوص قسم کا لباس پہنتے تھے جسے وہ صوف کا لباس قرار دیتے تھے تاکہ اس لباس کے پہننے سے دوسروں کو معلو م ہو کہ وہ صوفی ہیں ۔ صوفیاءکے ایسے لباس کو خرقہ یا گودڑی کہا جاتا تھا۔خرقہ یا گودڑی کو پیوند لگے ہوتے تھے ۔مگر آپ کے دور میں بعض ظاہر دار صوفیاءنے پیوند لگے کپڑوں اور خرقہ کو لوگوں میں جاہ و جمال کا ذریعہ بنا لیا تھا ۔ ایسا کر نا صو فیاءکے لئے اچھا نہ تھا اس لیے آ پ صو فیاءکا مخصو ص لباس پہننے کو بہتر تصور نہیں کرتے ۔ کیونکہ کشف ا لمحجوب میں لباسِ صوفیاءکے بارے میں آپ نے بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے کہ صوفی کا لباس کیسا ہو اور ا پنے لباس کا ذکرفرمایا ہے۔
آپ فرماتے ہیں کہ اب صوفیاءنے خرقہ یعنی پشم والا لباس تر ک کر دیا ہے اس کی دجہ یہ ہے کہ یہ لباس راہِ طریقت کے لیے شرط نہیں ہے ۔اس دور میں پشم کا لباس کم پہننے کی دو وجوہا ت ہیں ۔ایک یہ کہ پشم مشکوک ہو گئی ہے اور وہ اس طرح کہ جانور چور چکاری اور لوٹ مار میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آتے جاتے رہتے ہیں دوسرے یہ کہ بدعتوں کی ایک جماعت نے بھی اونی لباس پہننا شروع کردیا ہے اور اہل بدعت کی مخالفت ضروری ہے چاہے اس سے خلاف سنت ہی کیوں نہ ہو رہا ہو۔
 صو فیا ءکپڑوں میں پیوندلگانے میں تکلف برتنے لگے ہیں اس لیے لوگوں میں ان کی جاہ و منزلت بڑھ گئی ہے اور اب ہر شخص ان کی نقالی کرنے لگا ہے بظاہر خرقہ پہن لیتے ہیں مگر ان سے اعمال انتہائی نہ مناسب سر زرد ہوتے ہیں انھیں ان نام نہا د صوفیوں کی حرکت سے کہ وہ اپنے لباس اس انداز میں سینے لگے کہ کوئی اس طرح نہ سی سکے ۔اور انھوں نے باہم ایک دوسرے کے لیے یہ اپنی علا مت اور نشانی مقرر کر لی ہے اور اس حد تک اپنا شعار بنایا کہ ایک درویش کسی شیخ کی خدمت میں گیا اس نے جو خرقہ پہن رکھا تھا اس پر چوڑے بخیے لگے ہوئے تھے چنانچہ شیخ نے اسے اپنی محفل سے نکال دیا ۔اس سے مراد یہ ہے کہ صفا کی حقیقت طبیعت کی رقت اور مزاج کی لطافت ہے۔نیک دل اور صاف طبع میں کجی بھی نہیں ہوتی ۔جس طرح نہ موزوں شعر طبیعت پسند نہیں کرتی یا کوئی بھی نہ مناسب کام طبیعت کو اچھا نہیں لگتا ۔
بعض لوگوں نے لبا س کے معاملے میں کبھی تکلف سے کام نہیں لیا۔اللہ تعالیٰ نے اگر انھیں گدڑی عطا کی تو انھوں نے پہن لی اور اگروہ انھیں قبا سے نواز تا تو اسے زیبِ تن کر لیتے ہیں ۔اور اگر انھیں برہنہ رکھتا ہے تو وہ اس طرح گزارہ کرتے ہیں اور میں علی بن عثمان جلابی ؒ بھی اس طریقے کو پسند کرتا ہوں اور میں نے اپنے سفر میں اسی پر عمل کیاہے ۔
پھر ابو سعید ہجویریؒ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں ۔اس وقت غزنی میں بھی پیر صاحب کرامت موجود ہے ۔خدا اس کو تا دیر سلامت رکھے اس کا نا م مو ¿یدہے ۔ابو حامد دوستا ن کی طرح اس کو بھی اپنے لباس پر قبضہ نہیں ہے اور نہ اختیار ہے ۔میں بھی اسی طریق کو پسند کرتا ہوں ۔یعنی اگر گدڑی مل جاتی ہے وہی پہن لےتا ہوں۔قبامل جائے تو اس سے بھی انکا ر نہیں ۔پشم کا پاجا مہ اور سفید پیراہن بھی پہن لیتا ہوں گو سفید میںدھونے کی تکلیف ضرورہے ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کسی خا ص لباس کے پابند نہیں ۔ جو مل جاتا ہے اور جو میسر آجاتا ہے وہ پہن لیا کرتے تھے ۔مگر ایسے لباس سے ہمیشہ احتراز کرتے تھے جس سے زینت پائی جاتی ہو ۔اور جو محض نمائش کے لیے ہو ۔
چنانچہ کشف المحجوب میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ میں جن دنوں خراسان میں تھا اور مقصد خاص کے لیے پھر رہا تھا ۔میں نے بطور سنت بہت سخت کپڑے کی گودڑی پہنی ہوئی تھی ۔ایک عصا میرے ہاتھ میں تھا اور چمڑے کا لوٹا میری ظاہر ی کائنات تھی 

خوراک

لباس کی طرح خوراک کے بارے میں بھی آپ کا طرزِ عمل یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مل جاتا اسے استعما ل میں لے آتے کیونکہ انسانی زندگی میں خوراک کھا ئے بغیر کوئی اور چارہ کا ر نہیں ۔جسم خوراک ہی سے قائم رہتا ہے اس لیے ضرورت کے مطابق خوراک استعمال کرنا عین سنت بھی ہے۔ آپ خورا ک میں زیادتی کے قائل نہ تھے ۔کیونکہ آپ کا ارشا د ہے کہ مرید کے لیے بسیار خوری سب سے زیادہ نقصان دہ ہے اس لیے آپ نے بہت سیر ہوکر کھانے سے عمر بھر گریز کیا ۔
قیام لاہور کے دوران آخری عمر میں آپ کی قیام گاہ پر جب لوگوں کا آنا جانا کثرت سے ہوگیا تھا تو لنگر کا اہتمام بھی عام ہو گیا ۔ہر ایک کے لیے کھانا ایک جیسا ہوتا ۔جو پکتا اسی سے آپ بھی تناول فرما لیتے اور اپنے پاس آنے والوں کی خد مت بھی کرتے ۔اس طرح آپ کی خوراک کا سلسہ اللہ تعا لیٰ کی عطائی تھا ۔جو آگیا اسی پر قناعت کر لی اور زندگی کے شب و روز پورے ہوگئے خوراک میں دودھ ،سبزیاں ،گندم چاول ،گوشت اور دیگر ضروری اشیا ءقابل ذکر ہیں ۔
آپ کھاتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سنت طریقے کا بہت خیا ل رکھتے اس لیے آپ نے کشف المحجوب میں فرمایا ہے کہ کھا نا دائیں ہا تھ سے کھانا چاہیئے نظر اپنے لقمے پر رہے ۔کھانے کے دوران مکمل پیاس کے بغیر پانی نہ پیئے اور پیئے تو اتنا تھوڑاکہ جگر تر ہو جائے ۔لقمہ بڑا نہ لے ۔خوب چبا کر کھا ئے جلدی نہ کرے اس سے بد ہضمی کا اندیشہ ہے اور سنت کے بھی خلاف ہے ،کھانے سے فارغ ہوتو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور ہاتھ دھوئے ۔اگر جماعت میں سے دو تین یا زیادہ آدمی خفیہ کسی دعوت میں چلے جائےں اور کچھ کھائے پیئں تو بعض مشائخ کے نزدیک یہ حرام ہے اورصحبت میں خیا نت کے مترادف ہے ۔

استخارہ کی تر غیب نیت درست رکھنے کی تلقین نفسانی خواہشوں سے منہ موڑنا علم وفضل

استخارہ کی تر غیب

حضرت سید علی ہجویری ؒ کا طریقہ کا رتھا کہ جب کوئی بڑا اہم کا م کرنے کا ارادہ کرتے تو پہلے سنت کی اتباع میں استخارہ کرتے تا کہ اللہ تعالیٰ کی مددشامل حال ہو جائے لہٰذا آپ فرماتے ہیں جب میں نے کتا ب لکھنے کا ارادہ کیا تو میں نے سب سے پہلے استخارہ کیا اور استخارہ میں جب اللہ تعالیٰ کی توفیق اور مدد ملنے کا اشارہ ہو گیا تو میں نے کتا ب لکھنے کا پختہ ارادہ کر لیا ۔
آپ فرماتے ہیں کہ استخار ہ سے مراداللہ تعالیٰ کے ان آداب کا لحاظ رکھنا ہے کہ جن کا اس نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کا اتباع کرنے والوں کو حکم دیا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا فَاِذَاقَرَاتَ ال ±قُر ± انَ فَاس ±تَعِذ ± بِاللّٰہِ مِنَ الشَّی ±طٰنِ الرَّجِی ±مِ ۱ (کہ جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو )اور استعاذت (ہر معاملہ میں اللہ کی پناہ مانگنا)استخارت (اللہ سے بھلائی طلب کرنا )اور استعانت(ہر معاملہ میں اللہ کی مدد چاہنا ) ان سب سے مراد یہ ہی ہے کہ تمام امور میں اللہ تعالے ٰ سے ہی مدد طلب کی جائے ۔اپنے تمام کاموں کو اللہ ہی کے سپرد کیا جائے اور یوں طرح طرح کی مصیبتوں سے نجات حا صل کی جائے ۔
صحابہ کرام ؓ سے روایات ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح ہمیں قرآن کی تعلیم ارشاد فرمایا کرتے تھے اسی طرح استخارے کی بھی تعلیم دیا کرتے تھے۔
پس جب انسان اس حقیت سے روشناس ہوجائے کہ کسی کام میں اس کی کامیابی اس کے ذاتی کسب اور تدبیر پر موقوف نہیںکیونکہ انسان کی بہتر ی کا علم اللہ تعالیٰ کوہی ہے اور ہر قسم کی بھلائی یا برائی تقدیر الٰہی پر منحصر ہے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی ہونے اور اس سے مدد مانگنے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار نہیں رہتا اس طرح وہ نفس امارہ کی شرارتوں اور سر کشی سے ہر حالت میں محفوظ ہوجاتا ہے اور اس کی اصلا ح اور بہتری منزل کو حاصل کرلیتا ہے ۔لہٰذا ضروری ہے کہ بندہ اپنے تما م کاموں میں اللہ سے استخارہ کر لیا کرے تا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اسے غلطیوں اور آفتوں سے محفوظ رکھے اور توفیق تو اللہ کی طرف سے ہی ہے ۔

نیت درست رکھنے کی تلقین 

آپ عمل شروع کرنے سے پہلے نیت درست رکھنے کے قائل تھے لہٰذا اپنے ساتھی حضرت ابوسعید ہجویریؒ کو مخاطب کرکے ایک جگہ فرما تے ہیں کہ ہر کام کرنے سے پہلے اس کی نیت ضرور کرلینی چاہیئے ۔اگر کام میں کچھ خلل واقع ہو یا کام بخیرو خوبی انجام تک نہ پہنچ سکے تو اس میں انسان معذور ہے لیکن نیت اس کو کرنے یا انجام تک پہنچانے کی ہونی چاہیئے ۔
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مومن کی نیت اس کے اس عمل سے بہتر ہے جو بغیر نیت کیا جائے اور اعما ل میں نیت کا بڑا دخل ہے ۔اور اس پر سچی دلیل موجود ہے کہ بندہ ایک ہی نیت سے ایک حکم میں دوسر ے حکم میں ہوجاتا ہے حالانکہ اس کے ظاہر پر اس کا کوئی اثر نمودار نہیں ہوتا ۔
مثلاً اگر کوئی شخص روز کی نیت کے بغیر کچھ دن بھوکا رہے تو اسے اس کا کوئی اجر نہیں ملے گا لیکن اگر وہ روزہ کی نیت کرکے بھوکا رہے تو مقربانِ الہی میں شمار ہوجائے گا باوجود یہ کہ ظاہر ی طور پر کوئی فرق محسوس نہیں ہوگا البتہ وہ وہاں سکونت کی نیت کرلے تو مقیم سمجھا جائے گا ۔اسی قسم کے اور بھی بہت سے امور ہیں کہ نیت کے بغیر ان کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا ۔لہذ ا ہر عمل کے شروع میں نیک عمل کی نیت ہونی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کوہی صحیح علم ہے ۔

نفسانی خواہشوں سے منہ موڑنا 

حضرت سید علی ہجویریؒ فرماتے ہیںکہ میں نے دل میں پیدا ہونے والی ہر خواہش سے منہ موڑ لیا ہے ۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ہے کہ جس کام میں نفسانی اغراض شامل ہوجائیں اس سے بر کت اٹھ جاتی ہے اور دل راہ ِ راست سے پھر جا تا ہے ۔اس کی دو صورتیں ہیں ۔یایہ کہ اغراض پوری ہوجاتی ہیں یا نہیں ہوتیں ۔اگر یہ اغراض پوری ہو جائیں تو انسان کے لیے ہلا کت کا موجب ہے ۔کیونکہ نفس کی مراد پوری ہونا دوزخ کی کنجی ہے اوراگر یہ مراد پوری نہ ہوںتوبھی یہ شخص بار گراں اور اندرونی دباﺅ کا شکار رہے گا ۔الغرض جنت کے دروازے کی کنجی یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو اس کی خواہشات سے روکے ۔
ارشاد ِ خدا وندی ہے ”اور جس نے نفس کو خواہش سے روکا تو بیشک جنت ہی اس کا ٹھکا نہ ہے ۔“
نفسانی اغراض یہ ہیں کہ جو کام وہ کر رہا ہے اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی خوشنودی نہ ہو ۔اور نہ ہی اس سے مقصد اپنے نفس کو عذاب سے بچانا ہو۔اسی طرح نفسانی خواہشات کی کار فرمائی یہ ہیں کہ نفس کی رعونت کی کوئی حد نہ رہے اور نہ اسے کبھی اپنی کار ستانیوں سے اکتا ہٹ محسوس ہو۔

علم وفضل 

حضرت سید علی ہجویر یؒ وہ مرد کامل تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے علم و فضل سے بے پناہ نوازا تھا ۔ آپ علم کا ایک بحر بے کراں تھے ۔آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ علوم ظاہر ی و باطنی کی تحصیل و تکمیل میں صرف کیا تھا آخر ایک دن وہ بھی آ گیا کہ جب آپ ہر طرح سے علم و فضل پر کامل ہوگئے تو آپ کے علم کا سکہ اہل دنیا نے مانا آپکی کتا بوں سے آپ کے وسعت علم کا اندازہ ہوتا ہے ۔ پھر آپ کے علم و فضل کی بلند پر وازی آپ کی تصنیف کردہ کتا ب کشف المحجوب سے عیا ں ہے ۔آپ کی یہ کتا ب علم و عرفان کا انمول خزانہ ہے ۔
”آفتاب ِ ہجویر “میں لکھا ہے کہ آپ کی شہر ئہ آفاق کتا ب”کشف المحجوب “معلومات کا گنجینہ ہے جس میں علم و عرفان کے موتی بکھرے پڑے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ علم تاریخ پر بھی بڑا عبور رکھتے تھے ۔اس کتاب میں آ پ نے عہد رسالت ،خلفائے راشدین ۔فرماں روایانِ اسلام اور حکما ءعرب و عجم کے جو واقعات اور اقوال درج کیے ہیں ان کی صحت شک وشبہ سے بالا ہے۔ ان واقعات اقوال سے آپ نے جس رنگ میں استنباط کیے ہیں اس سے آپ کی قوتِ استد لال کا اندازہ ہوتا ہے ۔علم تصوف کے بارے میں جو نکات آپ نے بیان کیے ہیں وہ حرف َ آخر کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑتاہے کہ اس علم کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو آپ کی نگاہوں سے پوشیدہ ہو۔آپ روایات اور فن اسماءالرجال کے بھی عالم تھے سیرت نگاری میں بھی آپ کو حیرت انگیز کمال حاصل تھا۔غرض اپنے علم وفضل کے لحاظ سے آپ ان یادگار زمانہ لوگوں میں سے تھے جو کبھی کبھی عرصہ عالم میں آتے ہیں اور جب آتے ہیں توایک نیا عالم تخلیق کر جاتے ہیں ۔
آپ کے علم وفضل کی سر بلندی کا ثبوت آپ کی ذاتی کتب کا ذخیرہ بھی تھا ۔جو آپ نے جمع کر رکھا تھا اس زمانے میں کتب اکٹھی کر نا بہت مشکل کا م تھا کیونکہ کتب کی اشاعت زیادہ نہ تھی بلکہ چنداں تھی یاپرانی کتب سے اپنی ہاتھ سے کتب کی مشکل نقلیں بنالی جاتی تھیں ۔اور یہ خاصا مشکل کام تھا۔مگر آپ نے ہر قسم کی دشواری کے باوجود بھی دینی اور روحانی کتب خاصی تعداد میں جمع کیں ۔کشف المحجوب میں حضرت سلیم الراعی کے حالات لکھتے ہوئے آپ نے بصد حسرت لکھا ہے کہ اس وقت اس سے زیادہ لکھنا ممکن نہیں کیونکہ میری کتابیں غزنی میں رہ گئی ہیں ۔یعنی آپ نے کتابوں کے پاس نہ ہونے کی وجہ سے تفصیل میں جانے سے معذرت کی ہے ۔کشف الحجوب ہی میں آپ نے کم و بیش بیس کتابوں کے حوالے پیش کیے ہیں تو ان باتوں سے یہ حقیقت نمایا ں ہوجاتی ہے کہ آپ کی ذاتی کتب کا ذخیرہ خاصا بڑاتھا جسے آپ اپنے ساتھ لاہورمیں نہ لاسکے۔

علمی مسائل کاحل منا ظرہ کے ذریعے علمی عظمت کا اظہار استاد کے فرمان کی تشریح

علمی مسائل کاحل

آپ علمی مسائل کا حل بڑے احسن انداز میںپیش کرتے تھے جس سے مسئلہ بالکل واضح ہوجاتا ۔آپ نے اپنی کتاب میں ایک مقام پر ایک علمی مسئلہ کے بارے میں فرمایا ہے کہ ایک دفعہ میں مبتدی صوفیاءکی ایک جماعت کو مسائل سمجھا رہا تھا کہ ایک جاہل آگیا۔اس وقت اونٹوں کی زکوٰة کا مسئلہ زیر بحث تھا۔اونٹ کے تین سالہ، دوسالہ اور چارسالہ بچوں کابیان ہورہاتھا وہ جاہل مرکب تنگ آگیا اور اٹھ کر کہنے لگا کہ میرے پاس اونٹ ہی نہیں ۔بنت لبون (اونٹ کا تین سالہ بچہ )کا علم میرے کس کا م آئے گا میں نے کہا خدا کے بندے ! جس طرح زکوٰة دینے کے لیے علم کی ضرورت ہے اسی طرح زکوٰة وصول کرنے کے لیے بھی توعلم کی حاجت ہے اگر کوئی شخص تجھے بنت لبون (تین سالہ اونٹ کابچہ ) زکوٰة میں دے تو تجھے بنتِ لبون کا علم ہونا چاہئے اگر کسی شخص کے پاس مال نہ ہوا اور مال کے حصول کی بھی کوئی صور ت نہ ہو تو اس سے علم کی فرضیت سا قط تو نہیں ہوجاتی ۔غرضیکہ آپ نے علم حاصل کرنے کی ضرورت بڑے اچھے انداز میں اس پر واضح کی۔

منا ظرہ کے ذریعے علمی عظمت کا اظہار

آپ چونکہ صوفی باعمل تھے اس لیے آپ نے تصوف کی عظمت کو سربلند کرنے کے لیے بہت سے لوگوں سے مناظر ے بھی کیے تاکہ وہ راہ ِحق کو پہچان جائیں ۔ایک مناظر ے کا واقعہ آپ یوں بیان کرتے ہیں :
ایک دفعہ میں نے ہندوستان میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو تفسیر و تذکیر اور علم کا مدعی تھا اس نے اس کے معنیٰ میں مجھ سے مناظرہ کیا ۔جب میں نے اسے دیکھا تو وہ نہ فنا کو جانتا تھا اور نہ بقا کو ۔نہ قدیم حادث کے فرق کو پہچانتا تھا ایسے جاہل قسم کے لوگ بہت ہیں جو فنائے کلیت کو جائزہ جانتے ہیں حالانکہ کھلی ہٹ دھرمی اور مکابرہ ہے اس لیے کہ کسی چیز کی اجزائے ترکیبی کی فنا اور ان سے ان اجزاءکی جدائیگی جائز ہی نہیں ہے ۔میں ان جاہل خطاکاروں سے پوچھتا ہوں کہ ایسی فنا سے تمھارا کیا مدعا ہے اگر کہو کہ یہ ذات کی فنا ہے تو یہ محال ہے اور اگر یہ کہو کہ وصف کی فنا ہے تو ہم اسے جائز رکھتے ہیں کیونکہ فنا ایک علیحد ہ صفت ہے اور بقا کے ساتھ ایک اور علیحدہ صفت ہے اور ان دونو ں صفتوں سے متصف بندہ ہوگااور یہ محال ہے کہ کوئی شخص کسی جدا گانہ یعنی اپنے سوا کسی دوسرے کی صفت قائم ہو ۔

استاد کے فرمان کی تشریح 

حضرت سید علی ہجویریؒ نے فرمایاہے کہ ایک مرتبہ میں نے شیخ المشائخ ابو القاسم گر گانی ؒسے طوس میں پوچھا کہ درویش کے لیے کم از کم وہ کونسی چیز ہے جس کو اختیا ر کرنے کے بعد اس پر فقر کا لفظ درست قرار پا سکتا ہے ؟
آپ نے فرمایا کہ وہ تین چیزیں ہیں ،ان سے کم نہیں :۔
 (۱)لباس فقر کی سلائی اچھی طرح کرسکے ۔   
 (۲)سچی بات جاننے کی اہلیت رکھتا ہو ۔
(۳)اسے یہ علم ہوکہ صحیح قدم کیسے اٹھا یا جاتاہے ۔
جس وقت حضرت شیخ ؒ نے یہ بات فرمائی اس وقت میرے ساتھ درویشوں کی ایک اور جماعت بھی موجود تھی جس وقت ہم دروازے پر واپس آئے تو ان میں سے ہر ایک بجائے خو دشیخ کی بات میں اپنی طرف سے تصرف کرنے لگا ۔کچھ لوگ جہالت کی وجہ سے یہ سمجھے کہ فقر صر ف یہ ہے کہ پیوند صرف صیحح لگا سکتا ہو۔زمین پر پاﺅں مارنا جانتاہوان میں سے ہر ایک کا خیال تھا کہ میں نے شیخ کی بات بہتر طور پر سمجھی ہے ۔چونکہ شیخ کے ساتھ میرا قلبی تعلق تھا اس لیے میں نے گوارہ نہ کیا کہ ان کے فرمودات کا یہ حشر نہ ہو ۔میں نے انھیں کہا کہ آیئے تاکہ ہم سب مل جل کرحضرت شیخ کی بات کے بارے میں بات چیت کریں ۔
چنانچہ ان میں سے ہرایک شخص نے اپنا اپنا خیال ظاہر کیا ۔جب میری باری آئی تو میں نے کہا کہ اچھے پیوند سے مراد وہ پیوند ہے جو فقر کے لیے لگایا جائے نہ کہ زیب و زینت کے لیے جو پیوند فقر کی خاطر لگایا جاتا ہے وہ درست ہے اگر چہ بظاہر بے ترتیب کیوں نہ ہو ۔سچی بات سننے سے مراد یہ ہے کہ حال (واقعہ کے مطابق )کے کانوں سے سنے نہ کہ عقل اور پاﺅں زمین پر ٹھیک ٹھیک رکھنے سے مرادیہ ہے کہ قدم عالم وجد میں اٹھا یا جائے کھیل تماشے کی خاطر نہیں ۔
بعض لوگوں نے میری یہ تشریح حضرت شیخ ؒ کی خدمت میں پہنچا دی ۔آپ نے فرمایا کہ علی حقیقت کو پہنچ گیا ہے اللہ اسے اپنے پسندیدہ بندوں میں فرمائے ۔
(کشف المحجوب )

خداداد ذہانت عشقِ حقیقی

 خداداد ذہانت 

اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف سے ذہانت عطا فرمائی ۔آپ بچپن ہی سے بڑے ذہین تھے آپ کی ذہانت اور علمی صلاحیت کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے :
آپ فرماتے ہیں کہ غزنی میں شیخ بزرگ نامی ایک عمر رسیدہ شخص رہتے تھے انھوںنے فرمایا اے علی!تو ایک کتا ب لکھ جو تیری یاد گار رہے ۔میں نے کہا ، حضور!مجھے تو علم کا کچھ اتنا پتہ ہی نہیں ہے ۔میری عمر اس وقت ۲۱ سا ل کی تھی ۔جب انھوں نے اصرار کیا تو میں نے اسی عمر میں ہجویر کے اندر کتاب لکھ دی ۔اور ان کے سامنے پیش کی ۔انھوں نے فرمایا کہ ایک دن تم بزرگ ہوگے ۔میں نے کہا حضور !آپ کی نوازش ۔مجھے ان کی نصیحتیں یا د ہیں ۔کہا ، تجھے چاہئے کہ معشوق سے محبت کرے میںنے کہا معشوق کون ہے ؟فرمایاخدا۔وہ اس پر مہربانی فرماتا ہے ۔مجاز اختیار کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجاز حقیقت کے لیے پل ہے فقیروںسے محبت کر (کشف اسرار ) 

عشقِ حقیقی

آپ میں عشق حقیقی کے جذبات بہت زیادہ تھے آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات سے بے پنا ہ شوق تھا ۔اس عشق کے بارے میں خود فرماتے ہیں کہ ماورءالنہر میں ایک روز میں ایک حوض کے کنارے بیٹھا تھا ۔جب میںنے ہاتھ پانی میں ڈالا تو مجھے اپنا محبوب منظور نظر دیکھا ئی دیا ۔اسی دن سے مجھ کو معلوم ہوا کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے ۔
(اس لیے ) محبوب کو اختیا ر کر اور پھر اس پرجان نثار کر اور یہ سمجھ کہ اس کی راہ میں جان قربان ہوجائے تو بہتر ہے۔اگر دیکھنا ہی ہے تو خدا کی صنعت دیکھ ۔اپنی شمع کا پروانہ بن اور پر واہ نہ کر کہ جان پر بن جائے گی تو بہتر ہو گا ۔غرور کو تن سے نکال دے 
اس لیے اے دوست !تجھے ہی چاہیئے کہ سچا عشق ہو جائے اور اپنے پیروںو مرشد کے قدموں میں جان دے ۔مرشد کے قریب رہے اس کا دیدار کرتا رہے تا کہ حقیقت اور طریقت تک رسائی ہو ۔(انشاءاللہ ) خدا کو سب سے بہتر خبر ہے ۔
میں چاہتاہی ہوں کہ گوشہ گیر رہوں اور محبوب کے چہرے کے سوائے کسی پر نظر نہ رکھوں۔
میں علی بن عثما ن جلا بی ؒ ہوں ۔مجھے عجیب و غریب باتیں معلوم ہیں ۔میں سوائے محبوب کے کسی کو پیا ر نہیں کرتا اور اس کے دیدار کے سوا مجھے اور کوئی کا م نہیں اس کے نا م کے سوامیرا کوئی ورد وظیفہ نہیں ۔میں اس کے چاند سے جادو والے چہرے کو کبھی اس کے رخساروں کو دیکھتا ہوں ،کبھی اسکی خاک راہ کو حقیقت بین آنکھ کے لیے سرمہ کرتا ہوں ۔اس کے نقش کف پا کو بدر سمجھتا ہوں اور اس کے دانتوں کی لڑی پر جان نثار کرتا ہوں ۔اس کے سرور فتار سے فکر روشن کرتا ہوں ۔رات بھر اس کے عشق کی غم خوری ہے اور دن بھر محنت و زاری ۔میں نے دل کو یوں اس پر قربان کیا کہ بالکل بدل گیا ہوں ۔کپڑے پھاڑکر بے خود ہوگیا ہوں ۔میں خطاکا ر فقیر اور گنہگار حقیر ہوں جس نے دل خدا اور اس کے رسولﷺ کی یا د میں ہار دیا ہے ۔سوائے محبت کے اسے کوئی کام نہیں ۔جو دنیا کو ناپاک جگہ سمجھتا ہے ۔اور سرائے کہتا ہے جس میں مسافر آرام کرتے ہیں جو کبھی آسمان پر ہوتا ہے کبھی زمین پر میں نے اپنے آپ کو خاک کر لیا ہے 
جب تجھے دوستی کے راز کی خبر ہوجائے اور وہ تیرے دل میں بیٹھ جائے تو اسے سنبھا ل کر رکھ اور الٹ نہ دے ۔اور اس سے بری نہ ہوجا ۔اسی میںتیرا بھلا ہے منصور حلا ج کو دیکھا کہ اس نے دوست کے راز کا ایک رخ ظاہر کیا تو سر سے گز ر گیا اور اسکی معرفت خاک میں مل گئی ۔
حضرت علی ہجویریؒ فرماتے ہیں کہ میں نے تاج دین کو کہتے سنا کہ بھونرا پھول کے گرد خوشبو میں مست پھرا کرتا تھا ۔اس کو اس مٹی پر جہاں چنبیلی اگی ہوئی تھی تڑپتا ہوا دیکھا پوچھا ،چنبیلی کیا ہوئی ؟کہا سنا ہے جل گئی ہے ،اسے کہا گیا اے کچے !کیا عشق اسی کا نام ہے کہ تو اس کے بعد زندہ رہا اور اس کے ساتھ ہی نہ جل مرا ۔بولا یارو میں پردیس گیا تھا ۔میری عدم موجودگی میں چنبیلی برباد ہوئی ۔میں چاہتا ہوں کہ اس کی جگہ نظر آجا ئے مگر مجھے دیکھائی نہیں دیتی ۔نا چار وہ جس جگہ اگی تھی اور جہاں اس کے نشان ہیں ۔میں ا س کی مٹی تاج سمجھ کر سر پر ڈالتا ہوں ۔
محبوب کے سواکسی اور کی با ت سننا جہالت ہے اور سچا عشق بنے ۔اے علی !خاک ہوجاتا کہ اکسیر بن جائے ۔جس شخص کا روشن شریعت پر انجا م بخیر ہوا وہی نیک آدمی ٹھہرا ۔نور ہی نور شیطان سے دور ۔
پھر کہتا ہے کہ اگر تجھے نو ر اور سرور در کار ہے تو اپنے تئیں خاک کر دے تا کہ تو نیک اولا د اور نیک بیٹا گنا جائے ۔
اے علی !تو عجیب دلبستان ،یوسف کنعان اور جا ن جہان ہے ۔تو ظاہر وباطن کا جاننے والا ہے ۔لیکن تو نے کیا پڑھا کہ تو گھبرایا ہوا ہے تونے خود سے ”دشمنوں“کو دور نہیں کیا ہے اور اپنے اوپر گناہوں کی گر د جمنے دی ہے ۔اور ”جوہر“کو خود صاف نہیں کیا ہے ۔
اے علی دل میں عمارت بنا ۔ذکر الہی کی کچی پکی اینٹوں سے عمارت بنا ورنہ ہر عمارت ڈھے جاتی ہے ۔
اے علی ! تو عقل مند ہے ، بالغ ہے ، ولی ہے ،صاحبِ تاج و تخت ہوکر فقر فقیر ی کے تخت پر آرام کرنے والا ہے ۔نیکی کا درخت لگاتا کہ اس کا پھل تجھے ملے ۔تو پیر ہے ،دلپذیر ہے ۔بادشاہ کا وزیر ہے ۔تو ( اسی کا تقا ضہ کر یہی ہے ) اپنی فقیری کو خاک میں ملا دے دلگیر ی اختیا ر کرتے ہوئے ۔
اے علی !تو بادشاہ ہے ،تو مچھلی کی طرح مت چھپ ۔تو مرد راہ اور شیر دلیر ہے تو گھا س کا تنکا نہ بن ۔دیکھو ایسے نہ ہو کے تجھے روسیاہی نصیب ہو اپنے آپ کو خاک کرو تاکہ مراد ِخدا بن جائے ۔
 اے علی !تو بلند مرتبہ سورج ہے ۔بلند آسما ن ہے بلکہ سورج رکھنے والا آسما ن ہے مگرتو خاک ہوجا تا کہ مرد پر نور کہلا ئے ۔
اے علی !تیرے پاس ہیرے موتی ہیں تو خو د کو مالک سمجھتا ہے تو صرف امانت دار ہے دیکھ تو اپنے شہر میں ذلت نہ اٹھا نا ۔
بڑھیا کی طرح حرص و لالچ نہ کر ۔خداسے موافقت کر ۔اس کے کرم پر ناز کر رازمت کھول ،نماز پابندی سے اداکرنا تو کامل عمل ہے ۔امانت کا حامل ہے تو نیک بخت ہے اور آخرت میں سختی نہیں چاہتا ۔
اے دوست !تو میرے جگر کا ٹکڑا ہے ۔ان باتو ں پر عمل کر ۔
اے علی !باتیںبے کار ہیں اپنا کام کر ،عقلمندو ں سے نہیں سنا کہ تعلق توڑ واصل حق بن اور سوائے خد اکے کسی کو نہ ڈھونڈھ۔

راہِ راست کی تلقین

راہِ راست کی تلقین 

حضرت سید علی ہجویریؒ نے راہِ راست کی تلقین کرتے ہوئے کشف اسرارمیں فرمایا ہے:
تعریف اس خدا کی جس نے ہمیں عناصر اربعہ سے بنایا اور نعمت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہیں۔
فقیر بادشاہوں اور حاکموں کی دوستی اور ہم نشینی کو سانپ اور اژدہا کی دوستی جانے ۔فقیر کو بادشاہ کا قرب میسر آتا ہے تو اس کا توشہ برباد ہوجاتاہے ۔
اور چونکہ لباس پر بہت سی باتیں ہوسکتیں ہیں اس لیے اس کا ذکر کشف المحجوب میں کیا گیا ہے ۔یہاں اسی قدر کہنا کہ چار ٹوپی گوشہ سر پر رکھ کرکوئی فقیر نہیں بن جاتا ہے ۔ٹوپی چاہے کسی طرح کی سرپر رکھ مگر سچا فقیر بن ۔اور راضی برضا ہو فقیر دولت مند کی ہم نشینی کے لیے فقیری لباس پہنے تو اسے آتش پرست ،مغرور متکبر جا نو۔
اگر تو ہفت ہزاری بھی ہوجائے تو کیا ۔آخر ایک مشت خاک ہے اور خاک بھی ہوتا ہے ایک قطرہ ہے پھر اتنا غرور کس لیے ۔بالآخر دنیا سے تجھے جو کچھ ملنا ہے ،وہ چار گز کفن ہے اور خدا جانے وہ بھی ملے یا نہ ملے ۔
اے دوست !میں اور تو پردیسی ہیں ۔دعا کرکہ خد ا ہم پر کرم کرے اور اپنی یا د کا ذوق عطا کرے میں بے چارہ نہاں وآشکا را آوارہ ہوںاور ہر دم محبوب کا نام جپتا ہوں              
اے دوست !میں نے بہت دنیا دیکھی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے نیک اولاد مانگ اگر مجرد رہنے کی طاقت ہے اور سمجھتا ہے کہ ڈگمگائے گا نہیں ۔تو شادی نہ کر کیونکہ یہ بڑی بلا اور عذاب ہے ۔
مجھے ایک دوست کی بات یاد آتی ہے ،کہتا تھا کہ اے دوست !خدا کی عنایت ہوتو جنگل میںجا کر خدا کی عبادت کرو ں اور کسی سے سوائے خدا کے نہ مانگوں او رمیں (علی بن عثما ن جلا بی )اس کو دوست رکھتا ہوں جو قریب رہ کر دوست رہے ،برائیوں سے بچے تا کہ با مراد ٹھہرے ۔
بلا شبہ حضرت خضر علیہ السلام اولیا ءاللہ کے دوست ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ اولیاءاللہ کی لقا اور مشاہدہ ربانی ہوتاہے ۔
ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ دس چیزیں دس چیزوں کو کھاجاتی ہیں :
توبہ گنا ہ کو ،جھوٹ رزق کو ،چغلی عمل کو ،غم عمر کو ،صدقہ بلا کو ،غصہ عقل کو ،پشیمانی سخاوت کو ،تکبر علم کو ،نیکی بدی کو ،ظلم عدل کو ،یہ باتیں دوستوں کو بتاتا ہوں تاکہ ان پر عمل کریں اور میرے حق میں دعائے خیر کریں ۔مجھے یا د رکھیں ۔خدا کو پہچانیں اور غیر پر نگاہ نہ کریں ۔
اے دوست !دنیا پانی کی کشتی ہے اور بن پانی کا ملک ،تو غوطہ خور بن ،ڈوبنے والا نہ بن ۔وہ کر جس سے کسی کو تجھ سے فیض ملے ۔وہ نہ کر جس سے کسی کا د ل دکھے دین پناہ بادشاہ کی صفت یہ ہے کہ وہ جو رستم کو قلع قمع کرنے والا اور رعیت کے نفع نقصان کو جا ننے والاہو ۔دنیا نہ ڈھونڈ ھ۔دنیا مردار ہے اور اسکا طلب گارکتا بیان کیا گیا ہے اور عقبیٰ کا طالب بھی نہ بن اسے بھی عذاب جان ۔رضائے مولیٰ کا طالب بن
کیونکہ رضائے مولیٰ از ہمہ اولیٰ ۔حرص و لالچ بیکا ر ہیں ۔انھیں ذلت سمجھ اور طمع نہ کر جس شخص نے قناعت کی ،عزت پائی ۔طمع کرنے والا ذلیل ہوا ۔
اے طالب !اپنے حبیب لبیب کا غم پید اکر ۔راہِ خدا کا مردِ راہ بن ۔رات عبادت میں بسر کر ۔حواس کو کھول ۔زیادہ رو اور کم ہنس ۔خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ چاہیئے کم ہنسیں اور بہت روئیں ۔“صبح کے وقت دریا پر جا ۔حضرت خضر علیہ السلام سے محبت کر اور اسم مذکور کا ذکر کر تاکہ منزل مقصود پر پہنچے ۔
لازم ہے کہ تو خواہشاتِ نفس کی طرف میل نہ رکھے ۔لوگوں سے ملنا جلنا ترک کر ے تنہائی اختیا ر کر اور جو نذر نذرانہ ملے درویشوں میں تقسیم کردے اور اپنے پا س کچھ نہ رکھے خدا کے سوا کسی سے لو نہ لگائے ۔کسی قبر پر سے گزرہوتو پڑھ کر اسے بخشے تا کہ وہ بھی تیرے حق میں دعا کرے اگر کھجور کی کٹھلی بھی تیر ے ذمے ہے تو اسے ادا کردے اپنے پاس کچھ نہ رکھ ۔
شرک نہ کر ،جب تک جا ن میں جا ن ہے اسے وحدہ لا شریک خیا ل کر ۔
اپنے آپ کو پردیسی او ر مسافر جا ن کہ افضل ا لبشرپیغمبر اور محبوب خالق ﷺ اکبر نے کہا ہے کہ دنیا میں یوں رہو جیسے تم پردیسی ہویا مسافر ۔

ذوقِ شعر گوئی 

آپ نے عشق الٰہی کے غلبہ میں آکرکئی اشعار کہے ہیں جو حقیقت اور معرفت سے لبریز تھے ۔آپ کی شاعری پر مشتمل دو کتب تھیں ایک دیوانِ شعر اور دوسرا رسالہ کشف الاسرار ۔ان میں سے تو پہلی کتا ب نہ پیدہے اور دوسر ی کتا ب ملتی ہے ۔
کشف الاسرار میں بھی آپ نے اپنے دیوان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ میں نے بہت سے شعر کہے ہیں بلکہ ایک دیوان بھی تیا ر کیا ہے جو دیکھنے والوںکی نظر میں بہت پسند اور مرغوب ہوا ہے ؛
شاعری میں آپ نے کسی سے اصلا ح نہیں لی اور نہ تکلف اور غور اور تصنع ،اور دماغ سوزی کو شاعر ی میں دخل دیا ہے بلکہ بے ساختہ جو زبان پر آیا ہے اور یاد الہٰی نے جس قسم کی تڑپ پیدا کی ہے ویسے ہی اشعار موزو ں ہوتے گئے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں ۔
”اے مرید !میں ہر روز یار کے دیدار کو جاتا ہوں اور وہ کبھی کبھی مجھے جلوہ بھی دیکھاتا ہے اور میں نے اپنے دیوان کو اسی حال میں کہا ہے کہ جب یا ر کا منہ دیکھا جو کچھ بے اختیار منہ سے بغیر کسی فکر سے نکلتا گیا دیوان بن گیا ۔“
اشتیاقت روزو شب وارم دلا   عشق تو وارم نہاں ونر ملا 
جاں تجوا ہم داد اندرکوئے تو   گر مرا آزاد آید یا ہلا 
سوزِ تو وارم بسانِ جا ن و دل   مید ہم از عشق تو ہر سو صدا 
یا خداوند ! رقیباں را بکش   مست دریاوت مگر داں یا مرا 
یا رم من !واری شراب ِ جا م خوش  مہربانی کن بمن غم مبتلا  
دلبرا از تو ہمی خواہم لقا   کن تو آرے ومکن ہر گز تو لا 
     اے علی !تو فرخی ور شہر و کُو 
     وہ ز عشق خو یشتن ہر صدا 
 اشعار کا ترجمعہ :۔
(۱) دن کو مجھے تیری آرزو رہتی ہے اور رات کو تیر ی محبت ،چھپ کر بھی اور ظاہر میں بھی تیر ے عشق کا اظہار کر تا ہوں ۔
(۲)میں تیر ی گلی میں اپنی جان دے دو گا خواہ اس کے نتیجہ میں مجھے تکلیف پہنچے یا مصیبت ٹوٹے ۔
(۳) تیرے عشق نے میرے دل و جا ن میں گھر کیا ہوا ہے میں ہر طرف تیرے ہی عشق کے چرچے کر رہا ہوں ۔
(۴) اے خدا !رقیبوں کو ختم کردے یا مجھے یا د میں اس قدر محو کردے کہ مجھے ان کی پر واہ نہ رہے ۔
(۵)میرے پیالے میں اپنے دوست کی شراب ہے تو اسے مجھ پر مہربا ن بھی کر اور اسے میر ا مبتلا بھی کردے ۔
(۶) کتنی عجیب بات ہے کہ میں تجھ سے دید کی خواہش کروں اگر تیری عادت ہاں کرنے کی ہے تو پھر مجھ سے بھی انکا ر نہ کرنا ۔(۷)اے علی !تو شہروں او ر گلی کوچوں میں خوش قسمت ہے تو اپنے عشق کا بول بالا کردے ۔
میں کہتا ہوں خد اکی تعریف ہر دم کرنی چاہیئے کیونکہ وہی پشت و پناہ ہے اور وہی فریا د درس ہے ۔